کراچی / عمر کوٹ (نوپ نیوز) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین اور پاکستان قومی اتحاد کے وائس چیئرمین الطاف شکور نے کہا ہے کہ مقامی پولیس کی زیر سرپرستی معصوم بچیوں کے اغواء، زیادتی اور برہنہ گشت کرائے جانے کا واقعہ پیپلز پارٹی کے منہ پر کلنک کا ٹیکہ ہے۔ حوا کی بیٹیاں درندوں اور وڈیروں کی ہوس کا نشانہ بن رہی ہیں، بلاول زرداری ظہرانوں میں مزے کر رہے ہیں۔ مراد علی شاہ اپنے حلقہ سمیت سندھ کی بیٹیوں کی عزت کی حفاظت کرنے میں ناکام ہوگئے ہیں، مستعفی ہوجائیں۔ پی پی پی پی کے ایم پی اے کے زیر سایہ نوکوٹ میں ہونے والے اس سنگین جرم میں ملوث تمام مجرموں کو گرفتار کر کے سخت سے سخت سزائیں دی جائیں۔ اس سے قبل کہ متاثرہ خاندان کو کوئی جانی و مالی نقصان پہنچے، صوبائی حکومت اور انتظامیہ ہوش کے ناخن لے اور متاثرہ فیملی کی حفاظت کا بھرپور انتظام کرے۔
الطاف شکور نے چیف جسٹس آف پاکستان اور سندھ ہائی کورٹ سے درخواست کی کہ خواتین کے ساتھ ہونے زیادتی کے واقعات کا نوٹس لیا جائے۔ آخر کب تک تانیہ خاصخیلی اور وزیراں چھچھر جیسی بیٹیاں ظالم درندوں کی بھینٹ چڑھتی رہیں گی؟ پیپلز پارٹی کی حکومت درندوں اور ظالم وڈیروں کی سرپرستی کرنا بند کرے۔ سندھ پولیس کو سیاسی عمل دخل سے پاک کیا جائے۔ بچیوں اور خواتین کے اغواء اور زیادتی میں شریک پولیس اہلکاروں کو عہدوں سے برطرف کر کے سخت کاروائی کی جائے۔ پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی ظلم کے خلاف متاثرہ فیملی کے ساتھ شانہ بشانہ ڈٹ کر کھڑی ہے۔ مجرموں کو عبرت ناک سزائیں دلوانے کے لئے ہر طرح کا تعاون کریں گے۔ انصاف ملنے تک ساتھ نہیں چھوڑیں گے۔
وہ نوکوٹ واقعہ کے متاثرین سے ٹیلیفونک گفتگو کر رہے تھے۔ قبل ازیں متاثرین سے اظہار یکجہتی اور واقعہ کے خلاف آواز بلند کرنے کے لئے پاسبان کا وفد بدین سے نوکوٹ پہنچا۔ متاثرین کے اہل خانہ، چچا اور اہل محلہ سے ملاقات کی، متاثرہ فیملی نے پاسبان رہنماؤں کو تفصیلات سے آگاہ کیا۔ وفد میں پاسبان بدین کے ضلعی صدر نور محمد چانڈیو، سینیئر رہنما گل شیر گوپانگ، محمد عثمان چانڈیو، نعیم الدین، راجن خان شامل تھے۔ پاسبان رہنماؤں نے نوکوٹ میں پیپلز پارٹی کے ایم پی اے اور مقامی پولیس کی سرپرستی میں کئے جانے والے بچیوں کے اغواء اور زیادتی پر شدید غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ متاثرہ فیملی کی باربار درخواست پر بھی مجرموں کے خلاف کاروائی نہ کرنے پر ڈی ایس پی جھڈو کو فوری ان کے عہدے سے ہٹایا جائے۔ پولیس کا سیاسی و بدعنوان افراد کو شیلٹر مہیا کرنا، بیٹیوں کا اغواء اور سفاکانہ گینگ ریپ لمحہ فکریہ ہے کہ سندھ کی بیٹیاں اب کہیں محفوظ نہیں ہیں۔ قانون اور عزتوں کے محافظ ہی لٹیرے بن گئے ہیں۔