کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے تحت چودہویں عالمی اردو کانفرنس کا اختتامی سیشن ‘میں اور پاکستان’ کی نظامت انور مقصود نے کی۔ تقریب کے اختتام پر انہوں نے اپنے اور احمد شاہ کے درمیان کانفرنس سے متعلق ہونے والے مکالے کو ہلکے پھلکے انداز میں حاضرین کے گوش گزار کرکے سماں باندھ دیا۔ انور مقصود نے کہا کہ احمد شاہ کو میں شاہ صاحب کہتا ہوں انکا پورا نام محمد احمد شاہ ہے، اگر ان کے نام کے ساتھ محمد نہ ہوتا تو میں ڈپٹی شاہ رنگیلے کہتا۔ شاعری، مصوری،موسیقی کا شوق، گھومنے پھرنے کے دلدادہ اور سیاست سے رکھ رکھاؤ رکھتے ہیں۔ احمد شاہ نے کراچی آرٹس کونسل کی گرتی ہوئی عمارت کو کھڑا کیا۔ شاہ صاحب ادبی کانفرنس کو اپنا بچہ سمجھتے ہیں ہر سال اسکا انتظار کرتے ہیں اور کئی مشکلات کے باوجود بھی یہ منعقد ہوہی جاتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس ادبی ہنگاموں کو چودہ برس ہو چکے ہیں، چودھویں کا سن کر میں سمجھا یہ آخری سیشن کو غالب کے نام سے موسوم کریں گے کیونکہ غالب کے بغیر چودہویں کی کیا حیثیت ہے، جسے سن کر ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ تقریب کے اختتام پر انور مقصود نے اپنے خاندان کے پچھتر سالوں پر روشنی ڈالی۔