کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) کونسل فار پریکٹسپٹری ڈویلپمنٹ / کونسل براۓ شراکتی ترقی کی بانی اور چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر بلقیس رحمان نے کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوۓ کہا کہ پانی کی یقینی دستیابی ہر شہری کے لئے ایک سنگین چیلنج ہے بلکہ صاف پانی کی فراہمی اس سے بڑا مسئلہ ہے- ہر حکومت کا سب سے اولین کام اپنے شہریوں کو صاف پینے کا پانی مہیا کرنا ہے مگر اس کام میں بھی وہ ناکام نظر آتے ہیں- ہر سال پینے کے اس ناقص پانی کی فراہمی کی وجہ سے لاکھوں بچے اور دیگر افراد پیٹ کی بیماریوں اور دوسری بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں- کراچی میں کیے گئے بیشمار سروے رپورٹ اس بات کو ثابت کرتی ہیں کہ فراہم کیا گیا پانی جتنے بھی شہریوں تک بیچا جاتا ہے وہ بھی ناقص ہے اور انسانی صحت کے لئے خطرہ ہے- ان کا کہنا تھا کہ یونائیٹڈ نیشن کی طرف سے پائیدار ترقی کے اہداف نمبر 6 کو اپناتے ہوۓ آج 3 سال ہوچکے ہیں جس میں حکومت پابند ہے کہ وہ اپنے ملکوں کے غریبوں کو بنیادی ضروریات مہیا کریں گے جوکہ انسانی بقاء اور تحفظ کے لئے ضروری ہے مگر اس مد میں حکومت کی جانب سے سواۓ وعدوں کے کچھ عملی اقدامات نظر نہیں آتے ہیں- ایس جی ڈی کے ہدف نمبر 6 میں یہ واضح لکھا ہے کہ ہر شہری کو اس کا بنیادی حق صاف پانی اور صفائی فراہمی حکومت کو یقینی بنانا ہے بلکہ اس کی فراہمی کیلئے حکمت عملی اور واٹر سسٹیمنٹل مینجمنٹ حکومت کی اولین ترجیح ہونا چاہیے- کیونکہ پائیدار ماحول، ایکوسسٹم اور معاشی ترقی کہ نہ یہ بنیادی حقوق کی فراہمی ناگزیر ہے-
![]()