کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) سابق ایم این اے سلمان مجاہد بلوچ نے وزیر اعظم پاکستان اور آرمی چیف سے اپنے ایک بیان میں مطالبہ کیا ہے کہ آئین پاکستان کے تحت ملک میں 20 انتظامی یونٹس یا صوبے قائم کئے جائیں۔ کراچی کی 3 کروڑ آبادی کے مسائل کے حل کے لئے، کراچی کو بھی انتظامی یونٹ یا صوبہ بنایا جائے۔ پاکستان کی 22 کروڑ عوام اور انکے مسائل کا حل اب صرف انتظامی بنیادوں پر انتظامی یونٹس قائم کرنے میں پوشیدہ ہے۔ کراچی پاکستان کا معاشی حب اور اقتصادی انجن ہے جو محصولات کی مد میں وفاق کو 70 فیصد اور سندھ کو 95 فیصد کما کر دیتا ہے لیکن کراچی کو بدلے میں نمک کی چٹکی ملتی ہے۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد کراچی، سندھ میں کرپشن ، لوٹ مار اور اقربا پروری کی بدترین مثالیں قائم کی گئیں ہیں۔ کراچی اور سندھ کے دیگر شہری علاقوں کے معاشی، سیاسی، معاشرتی اور عوامی مسائل کے حل کے لئے وفاقی حکومت فوری طور پر آئین کے آرٹیکل 149 (4) کا نفاذ کرے اور کراچی کو اپنے کنٹرول میں لیکر معاشی دارالخلافہ قرار دے۔
وزیراعظم اور وفاقی حکومت آئین کے آٹیکل 239 (4) میں فی الفور قومی اسمبلی میں آئینی ترمیمی بل پیش کریں تاکہ ملک میں نئے صوبے بنانے کی راہ ہموار ہوسکے۔ وفاقی حکومت اور وزیراعظم کراچی پیکج پر عملدرآمد یقینی بنائیں۔ میئر کراچی و دیگر بلدیاتی اداروں کو کراچی کے بلدیاتی مسائل کے حل کے لئے براہ راست سنگل لائن فنڈ ٹرانسفر کریں۔ کراچی سرکلر ریلوے اور پانی کے لئے کے-4 کے منصوبہ پر فوری طور پر کام شروع کیا جائے۔
![]()