کراچی (نوپ نیوز) کراچی گورنمنٹ کمپری ہینسیو ہائیرسیکنڈری اسکول عزیزآباد کی سابقہ جونئیر پرنسپل نشاط امین کے کارنامے۔ کمپری ہینسیو اسکول میں رات گئے چوری کی واردات۔ نشاط امین کی کرپشن کے ثبوت، ماسٹر رول میں سی ایل کو بلیک مارکر سے چھپائے گئے ثبوت سمیت طلباء کی اہم دستاویزات، لیب کا سامان، 72 ہزار روپے سے زائد کیش سمیت دیگر سرکاری کاغذات چوری کرلیے گئے۔ حیرت انگیز طور پر صرف وہی سامان چوری کیا گیا جس میں سابقہ پرنسپل نشاط امین کے کالے کرتوتوں کے ثبوت موجود تھے۔ اسکول کے مختلف شعبہ جات کی کھڑکیاں، تالے اور دیگر چیزیں ٹوٹی ہوئی ملیں۔ ڈائریکٹر ایجوکیشن، ڈی ای او وسطی نےمعاملے پر چپ سادھ لی۔ واقعے سے متعلق تھانہ عزیز آباد کو درخواست دیدی گئی۔ پولیس افسران و اہلکاروں نے اسکول کا دورہ بھی کیا۔ کرپشن، اقربا پروری، اسکول اسٹاف کے ساتھ زیادتیاں، بد تمیزی سمیت این جی او چلانے کے باعث معطل کی گئی سابقہ پرنسپل نشاط امین نے محکمہ تعلیم کو جوتی کی نوک پر رکھ دیا۔ سیکریٹری تعلیم کے احکامات اور سرکاری نوٹیفیکیشن کے ذریعے نشاط امین کو معطل کرکے فرزانہ اکرم کو کمپری ہینسیو اسکول کی پرنسپل کا چارج دیا گیا تھا لیکن نشاط امین نے پرنسپل آفس، لائبریری، کیمسٹری لیب سمیت مختلف شعبوں کو تالے لگا کرسیل کردیا اور تاحال فرزانہ اکرم کو چارج نہیں دیا، ڈائریکٹر ایجوکیشن حامد کریم، ڈی او مرزا ارشد بیگ نے بھی فرزانہ اکرم کے سامنے ہتھیار ڈال دئیے، یہ افسران بھی نہ تو فرزانہ اکرم کو چارج دلواسکے اور نہ ہی نشاط امین کی جانب سے لگائی گئی سیل کھلواسکے۔ اسکول میں رات گئے چوری کی واردات ہوئی۔ صبح 8 بجےجب اسٹاف پہنچا تو لائبریری، کیمسٹری لیب سمیت دیگر کی کھڑکیاں اور تالے ٹوٹے ہوئے پائے گئے جس میں سے اسکول حاضری رجسٹر، ماسٹر رول، طلباء کی اہم دستاویزات، امتحانی فارمز، اور وہ دستاویزات اور ماسٹر رول جس میں نشاط امین نے اپنی غیر حاضری چھپانے کے لیے سی ایل کو بلیک مارکر سے سائن کیے یہ بھی غائب اور دیگر سرکاری دستاویزات غائب پائی گئیں۔ پرنسپل فرزانہ اکرم سمیت دیگر اسٹاف نے یہ تمام صورتحال دیکھ کر ڈی ای او، ڈائریکٹر سمیت دیگر افسران سے رابطے کی کوشش کی لیکن کسی نے فون نہیں اٹھایا۔ کافی دیر تک رابطہ کرنے کے بعد عزیز آباد تھانےمیں اس پراسرار چوری کی روزنامچے میں اندراج کرا دیا گیا۔
![]()