کراچی (رپورٹ: عمران عاطف چوہدری) بھارت مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے حق میں بولنے کی پاداش میں ملائشین برآمدات کو روکنے پر غور کر رہا ہے بھارتی مودی حکومت ملائشین وزیر اعظم تن ڈاکٹر مہاتیر محمد کی اقوام متحدہ میں کی جانے والی تقریر پر سرپٹا گیا ہے۔ ملائشیا کے وزیر اعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد نے اقوام متحدہ میں 27 ستمبر کو تاریخی الفاظ کہے تھے کہ "بھارت نے جموں و کشمیر پر حملہ اور قبضہ کیا ہے” جس کے بعد سے مودی حکومت کو اقوام عالم کے سامنے شدید جھٹکا لگا تھا۔ ڈاکٹر مہاتیر محمد کے اس بیان کے بعد بھارت کی حکومت ملائشین حکومت سے سخت ناراض نظر آئی جس کے بعد گزشتہ دنوں بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اعتراض اٹھایا تھا کہ کشمیر بھارت کا اندورنی معاملہ ہے لیہذا ملائیشین وزیراعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد اپنا اقوام متحدہ میں دیا ہوا بیان واپس لیں۔ جس کے جواب میں ملائشین وزیر اعظم نے 8 اکتوبر بھارتی حکومت کو ایک پریس کانفرنس کے ذریعے جواب دیتے ہوۓ کہا تھا کہ مسئلہ کشمیر کو حل ہونا چاہیے اور مقبوضہ وادی میں تشدد کا استعمال نہیں ہونا چاہیے، مسئلہ کشمیر پر پاکستان اور بھارت کے درمیان پر امن حل نکلنا چاہیے، ملائیشیا تشدد کے خلاف ہے۔ ملائیشین وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر کے پر امن حل کے لیے پاکستان اور بھارت مذاکرات کریں یا پھر ثالثی کیلئے رضا مند ہوں۔
https://www.nopnewstv.com/2019/10/08/5369/ یہ بھی پڑھیں
ایک اور سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر چلنے والی ’بائیکاٹ ملائیشیا مہم‘ سے بھارت اور ہمارے معاشی اور باہمی تعلقات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، کیونکہ مجھے تقریر کے بعد کوئی فیڈ بیک نہیں ملا، میں نے مودی کو کہا تھا کہ اگر کوئی مسئلہ ہے تو مجھ سے رابطہ کریں۔
https://www.nopnewstv.com/2019/10/11/5409/ یہ بھی پڑھیں
پام آئل کا بھارت میں خوردنی تیل کی درآمد کا تقریبا دوتہائی حصہ ہے۔ بھارت سالانہ نو ملین ٹن سے زیادہ پام آئل خریدتا ہے، بنیادی طور پر بھارت یہ پام آئل انڈونیشیا اور ملیشیا سے خریدتا ہے۔ ملائیشین پام آئل بورڈ کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق سال 2019 کے پہلے نو مہینوں میں بھارت ملائیشین پام آئل کا سب سے بڑا خریدار رہا ، جس نے 3.9 ملین ٹن پام آئل ملائشیا سے خریدا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اگر بھارت نے ملائشیا سے پام آئل کی خریداری کو معطل کیا تو ملائشین حکومت اس کا جواب کس طرح دیگی۔
![]()