کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) کراچی پریس کلب میں نیورولوجی اویئرنس اینڈ ریسرچ فاؤنڈیشن (نارف) کے زیراہتمام ذہنی صحت کےعالمی دن پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے نیورولوجی اویئرنس اینڈ ریسرچ فاؤنڈیشن کے صدر پروفیسر ڈاکٹر محمد واسع نے کہا کہ ذہنی امراض کا مسئلہ تمام ممالک کے لیے یکساں اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس کی وجہ سے مختلف مسائل سامنے آتے ہیں‘ جن میں پست معیارِ زندگی‘ معاشرتی محرومیاں وغیرہ شامل ہیں اسی لیے دنیا میں ہر 40 سیکنڈ میں ایک فرد خودکشی کرتا ہے۔ پاکستان میں خودکشی کرنے والے افراد کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے جن میں پاکستانی خواتین میں خودکشی کی شرح میں اضافہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے میں پھیلی ناانصافی، افراتفری، بے راہ روی، مایوسی، عدم اعتماد، غربت، مشتر کہ خاندانی نظام کا تنزلی کی جانب سفر، بے روزگاری، احساس محرومی و برتری، تشدد، دماغی اور نفسیاتی عوارض و انتشار، طلبہ میں غیر ضروری تعلیمی مسابقت کی دوڑ کے باعث "ذہنی دباؤ” مقابلہ کی رسہ کشی خود کشی کے خاص خاص اسباب ہیں۔ اس کے علاوہ جدیدیت کے باعث معاشی ترقی کے حصول کی وجہ سے ذہنی امراض اور پھر ان سے عدم توجہی، خود کشی کی جانب راغب کرنے والے عوامل ہیں۔ ماہرین نے کہا کہ پاکستان میں بڑھتا خودکشی کا رجحان ایک سنجیدہ مسئلہ بن چکا ہے جس کی وجوہات میں سماجی دباؤ، ڈپریشن، خود اعتمادی میں کمی، غربت اور نوعمری کی محبت ہے، جبکہ دوسری وجہ تعلیمی دباؤ ہے۔ والدین اور اساتذہ کی طرف سے بچوں پر تعلیمی دباؤ انہیں ڈپریشن میں مبتلا کر دیتا ہے جس کی وجہ سے کئی بچے خودکشی کرچکے ہیں، جبکہ اس کی سب سے بڑی وجہ مذہب سے دوری بھی ہے۔ ہم آج کل اپنے بچوں کو صحیح طرح دین کی تعلیم دے ہی نہیں پا رہے۔ ہم اپنے بچوں کو سمجھا ہی نہیں پا رہے کہ ہمارے دین اسلام میں خودکشی اور ناامیدی کتنا بڑا گناہ ہے انہوں نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق کے مطابق دنیا بھر میں بیماریوں اور معذوریوں کی ایک بڑی وجہ ڈپریشن ہے۔ دنیا بھر میں ہر تیسرا شخص، اور مجموعی طور پر 30 کروڑ سے زائد افراد اس مرض کا شکار ہیں۔ پاکستان میں بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر تیسرا پاکستانی ڈپریشن کا شکار ہے، دوسری جانب ملک میں ڈپریشن کا علاج کرنے والے ماہرین نفسیات کی تعداد انتہائی کم ہے پروفیسر ڈاکٹر محمد واسع کا کہنا تھا کہ کہ کراچی میں دیگر شہروں کے مقابلے میں ذہنی صحت کے مسائل زیادہ پیدا ہوئے۔ عالمی سرویز کے مطابق ہر چوتھا فرد اور ہر دسواں بچہ ذہنی صحت کے مسائل سے دوچار ہے، صرف کراچی میں 50 لاکھ سے زائد افراد نفسیاتی مسائل کا سامنا کررہے ہیں، جن میں ’’انگزائٹی اور ’’ڈپریشن‘‘ سرفہرست ہیں پروفیسر ڈاکٹر اقبال آفریدی نے کہا کہ پاکستان میں مریضوں کی سائیکو تھراپی اورکونسلنگ کی سہولیات مطلوبہ تعداد میں موجود نہیں ہیں۔ اسی طرح ملک میں مینٹل ہیلتھ آرڈیننس موجود ہے مگر اس میں ماہرِ نفسیات کا کردار ابھی تک تسلیم نہیں کیا گیا۔ لوگ سیاسی اور معاشی حالات سے پریشان ہو کر خودکشی پر مجبور ہورہے ہیں۔ اس کے علاوہ ماحولیات کی بناء پر بھی امراض بڑھ رہے ہیں۔ ماحولیات سے مراد فضاء میں بڑھتا ہوا شور، فضائی اور زمینی آلودگی شامل ہے انہوں نے کہا کہ تمام ذہنی امراض میں سے نصف لڑکپن میں شروع ہوتے ہیں، جن میں زیادہ تر غیر تشخیص شدہ اور غیر علاج شدہ رہتے ہیں، کیوں کہ آگاہی نہ ہونے کے سبب والدین اور اساتذہ اس قابل نہیں ہوتے کہ وہ ان امراض کی علامات کو پہچان سکیں۔ پاکستان میں اس کا حل نکالنا بہت ضروری ہے پاکستان میں ٹین ایج (18-25) خودکشیوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے پروفیسر ڈاکٹر رضاء الرحمان اور ڈاکٹر قرۃ خان کا کہنا تھا کہ ملک میں اعصابی تناؤ ختم کرنے اور سکون آور ادویات کی مانگ بڑھ رہی ہے۔ ان ہی دوائیوں کو استعمال کرنے والے کسی وقت بھی خودکشی کرسکتے ہیں لہذا ان ادویات کے حصول و استعمال کے حوالےسے سخت اقدامات کے ذریعے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ ہمارے معاشرے میں خودکشی کا بڑھتا ہوا رجحان ایک خطرناک علامت ہے۔ خودکشی پر آمادہ لوگوں کی کاؤنسلنگ ہوسکتی ہے، یوں مرض میں روک تھام ممکن ہے مگر سماجی اور معاشی حالات اور سماجی انصاف نہ ہونے سے لوگوں کے پاس موت کو گلے لگانے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہے۔ زندگی ایک دفعہ ملتی ہے اس کو بہتر بنانے کے لیے تمام تر کوششیں کرنی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ 10 سال سے 20 سال تک کے نوجوانوں میں گھبراہٹ اور خوف، مایوسی اور ڈپریشن، منشیات کی لت، غصہ اور تشدد، عدم برداشت، سوشل میڈیا اور ملٹی میڈیا کے استعمال سے نیند میں کمی، بے مقصدیت، فحاشی اور جنسی بے راہ روی، مشاغل کا نہ ہونا، مستقبل اور کیریئر کے حوالے سے غیر یقینی صورت حال، حالات کا مقابلہ کرنے کی قوت اور حکمت عملی کا فقدان جیسے حالات میں ذہنی ونفسیاتی امراض تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے اس کا حل پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپنے کمیونٹی کے سپورٹ سسٹم کو بہتر کرنا ہوگا۔ خاندان، اسکولوں اور مقامی معالجین کی سطح پر شعور اور آگاہی کے نظام کو مؤثر بنانا ہوگا۔ ذہنی صحت اور علاج سے متعلق غلط فہمیوں کو دور کرنا ہوگا۔
![]()