Home / اہم خبریں / "عالمی یوم بستی” پر حکومتیں اور چوٹی کے کاروباری ادارے عوام کی حالت زار کا مشاہدہ کریں۔ الطاف شکور چیئرمین پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی

"عالمی یوم بستی” پر حکومتیں اور چوٹی کے کاروباری ادارے عوام کی حالت زار کا مشاہدہ کریں۔ الطاف شکور چیئرمین پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے  "عالمی یوم بستی” کے موقع پر اقوام عالم کے حکمرانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ دو وقت کی روٹی سے محروم اور بے گھر عوام کی حالت زار کا مشاہدہ کریں اور زبانی جمع خرچ سے آگے بڑھ کر انسانیت کو امن کا گہوارہ اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لئے اپنے وسائل خرچ کریں اور معاشی پالیسیز کو درست کریں۔ پاکستان میں کچی بستیوں اور کھلے آسمان تلے زندگی بسر کرنے والوں کا کوئی پرسان حال نہیں جبکہ کشمیر، فلسطین، برما اور شام سمیت متعدد ملکوں کے عوام اپنے گھروں کو چھوڑ کر کھلے آسمانوں تلے جانوروں سے بھی بدتر زندگی  بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ تعلیم، صحت، پانی و بجلی اور دیگر سہولتیں عوام کا یکساں حق ہیں۔ اگر یہ حکومتیں کچھ نہیں کر سکتیں تو اپنی معاشی پالسیز کو ردی کی ٹوکری میں پھینکیں اور آگ لگا دیں مگر "عالمی یوم بستی” پر منافقانہ بیانات اور فوٹو سیشن سے باز آجائیں۔ پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ "عالمی یوم بستی” کے حوالے سے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے مزید کہا کہ آج دنیا بھر میں امن کے ٹھیکیدار یہ دن منا رہے ہیں۔ کچی بستیوں، جھگیوں اور کھلے آسمانوں تلے کروڑوں انسان جانوروں سے بھی بد تر زندگی گذار رہے ہیں۔ جنہیں نہ صاف پانی میسر ہے، نہ چھت اور نہ ہی گندگی اور مکھیوں، مچھروں سے محفوظ ماحول دستیاب ہے۔ ندی نالوں اور گندگی کے جوہڑوں کے ساتھ زندگی بسر کرنے والوں کو تعلیم اور علاج کی سہولت بھی دستیاب نہیں ہے۔ فاقہ زدگی، ملیریا، ڈینگی اور دیگر وبائی امراض نے زندہ انسانوں کو موت کی دہلیز پر پہنچا دیا ہے۔ الطاف شکور نے کہا کہ بڑے بڑے صنعتکار، تاجر اور ملک کے بڑے  پراپرٹی ٹائیکون اگر اپنی سوسائیٹیز سے کمائی جانے والی خالص منافع پر مبنی دولت کا دس فیصد بھی ان غریبوں کی رہائشی سہولتوں کے لئے مختص کریں تو نہ صرف کچی بستیاں ختم ہو سکتی ہیں بلکہ طبقاتی کشمکش سے جنم لینے والے جرائم کا خاتمہ بھی ہو سکتا ہے۔ دنیا بھر کے رفاہی ادارے جو کام کر رہے ہیں ان کے اثرات معدود ہیں۔ اس کے لئے حکومتوں، ملٹی نیشنل کاروباری اداروں ا ور مخیر حضرات کو آگے آنا ہوگا۔ الطاف شکور نے کہا کہ کسی بھی عام بستی میں جا کر دیکھ لیا جائے۔ عوام کی اکثریت کو تو سمجھ ہی نہیں آتا کہ وہ دن بھر کی محنت و مزدوری کے بعد جو محدود رقم حاصل کرتے ہیں اس سے اپنا اور بچوں کا پیٹ بھریں یا ان کی تعلیم و صحت اور بجلی پانی کا انتظام کریں۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

کراچی میں کوالیفائر کا جوش عروج پر، ٹکٹس کی تفصیلات جاری

کراچی، (رپورٹ، ذیشان حسین/اسپورٹس رپورٹر) پاکستان کرکٹ بورڈ نے 28 اپریل کو نیشنل بینک سٹیڈیم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے