ڈیرہ اسماعیل خان (رپورٹ: گوہر غنچہ) دریائے سندھ سے اندرون شہر آنیوالی ریت، مٹی، کریش، خاکہ ٹرکوں، ڈمپروں، ٹرالیوں پر بغیر ترپال کے شہر منتقل کیا جانے لگا۔ جس کی وجہ سے اڑنے والی دھول، مٹی، ریت شہریوں کے چہروں اور آنکھوں میں پڑنے سے شہری دمے، اور آشوب چشم کی بیماریوں میں مبتلا ہونے لگے۔ ٹریفک پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس حوالے سے چپ سادھ لی، تفصیلات کے مطابق ڈیرہ اندرون شہر آنے والے ڈمپر، ٹرالے اور ٹریکٹر ٹرالیوں کے مالکان لائی جانے والی ریت، مٹی، اینٹیں، خاکہ ٹرالیوں کے اوپر ترپال نہ ڈالنے کی وجہ سے شہر کے اندر سفر کرنے والے موٹر سائیکل سوار وں، پیدل چلنے والے شہریوں اور سڑک کے دونوں اطراف بیٹھے دکاندار اڑنے والے خاکے، مٹی، ریت وغیرہ کی وجہ سے سانس اور آنکھوں کی بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ اس حوالے سے شہریوں کا کہنا ہے کہ ٹریفک پولیس کے ذمہ داران نے اندرون شہر آنے والی ٹریکٹر ٹرالیوں اور ڈمپروں کی چیکنگ کرنے کی کبھی ضرورت محسوس نہیں کی جس کی وجہ سے سارا دن مضافاتی علاقوں سے تعمیراتی سامان شہر منتقل کرنے والے ٹریکٹر ٹرالیوں، ٹرکوں، ڈمپروں کے مالکان شہریوں کو بیماریوں میں مبتلا کرنے کیلئے سڑکوں پر رقص کرتے نظر آتے ہیں۔ شہریوں نے ڈی ایس پی ٹریفک ڈیرہ سے مطالبہ کیا ہے کہ شہر میں بھاری گاڑیوں کے داخلے پر پہلے سے پابندی عائد ہے جس پر عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے دن کے اوقات میں تعمیراتی سامان شہر اور مضافاتی علاقوں میں منتقل کیا جاتا ہے۔ جو کہ سریحاً قانون کی خلاف ورزی ہے۔ شہریوں کو حادثات سے اور بیماریوں سے محفوظ بنانے کیلئے اندرون شہر بھاری گاڑیوں کے داخلے پر پابندی عائد کی جائے اور مٹی، ریت، خاکہ والی ٹریکٹر ٹرالیوں کے عملے کو ترپال استعمال کرنے کا پابند بنایا جائے۔
![]()