میرپورخاص (رپورٹ: ایم ہاشم شر) جنوبی سندھ کے اولیاء اللہ حضرت سلطان عبدللمغیث المعروف شاہ دیوانو سلطان ہاشمی رحمتہ الله علیہ کا سالانہ 787 واں عرس مبارک درگاہ شاہ دیوانو سلطان ہاشمی رحمتہ الله علیہ نزد ٹنڈو غلام علی میں شب القدر کی رات منایا گیا، عرس کی تقریبات دربار شاہ دیوانو سلطان ہاشمی رحمتہ الله علیہ اور انکے نائب خلیفہ اول حضرت سید اسماعیل کے مزارات پر چادر کشائی کے بعد شروع ہوئی، درگاہ حضرت شاہ دیوانو سلطان ہاشمی رحمتہ الله علیہ کے خادم فقیر دلشاد علی دلبر المعروف مستانہ بابا نے چادر چڑھائی، جس کے بعد دربار پر آنے ولاے ہزاروں زائرین اور مریدوں کو افطاری کے ساتھ ساتھ لنگر بھی تقسیم کیا گیا، مسجد شاہ دیوانو سلطان ہاشمی میں ختم القرآن کی تقریب ہوئی، محفل حمد و نعت کے ساتھ ساتھ محفل مولود بھی منعقد ہوئی، محفل مولود میں درگاہ کے خدمتگار مرحوم فقیر عبدالقیوم میمن عاجز کی کتاب ” عاجز گدا عربی جو” کے مجموعہ کلام پر مشتمل انکی لکھی گئی حمد و نعت مولود پڑھے گئے، تقریب میں فضائل رمضان، نزول القرآن پر علماء اکرام نے خصوصی روشنی ڈالی، بعد ازاں اجتماعی دعا رات دو بجے مانگی گئی، درگاہ شریف پر آنے والے تمام زائرین کو سحری بھی کرائی گئی، درگاہ شریف کے خادم فقیر دلشاد علی دلبر المعروف مستانہ بابا اور فقیر حنان میمن نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان اولیاء اکرام کی سرزمین ہے اور پاکستان اللہ رب العزت کے حکم سے ہمیشہ قائم دائم رہے گا اور دشمنان اسلام دشمنان پاکستان کا وجود مٹ جائے گا، انہوں نے کہا شاہ دیوانو سلطان ہاشمی رحمتہ الله علیہ کے دربار پر تمام مذاہب و عقائد کے لوگ آتے ہیں اور کہا یہ درگاہ امن بھائی چارے ذہنی روحانی سکون کا ایک گھر ہے، درگاہ شریف پر لگنے والے میلے میں احترام رمضان الکریم آرڈیننس کا مکمل خیال کیا گیا۔
![]()