کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے جنرل سیکریٹری وقار مہدی نے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری کی نیب کے دفتر میں حاضری کے موقع پر پارٹی کارکنوں اور پارلیمنٹیرینز پر پولیس کی جانب سے بدترین تشدد آنسو گیس کے استعمال لاٹھی چارج اور گرفتاریوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حکومت آمرانہ ہتھکنڈوں پر اتر آئی ہے پیپلز پارٹی کی خاتون اراکین پارلیمنٹ شازیہ ثوبیہ مسرت مہیسر اور پیپلز پارٹی کے پرامن درجنوں کارکنوں جن میں پیپلز پارٹی ضلع شرقی کے صدر اقبال ساند اور ایم این اے شاہدہ رحمانی کے صاحبزادے ہلال رحمانی بھی شامل ہیں کو پولیس نے بدترین تشدد کرتے ہوئے گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی آمرانہ حکومت چئیرمین بلاول بھٹو زرداری سے اظہار یکجہتی کے لیے آنے والے ہزاروں کارکنوں کو دیکھ کر بری طرح بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئی ہے یہ تو از خود آنے والے ہزاروں کارکنوں کا ٹریلر تھا اگر چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے حکومت کے خلاف احتجاج کے لئے اسلام آباد آنے کی کال دے دی تو لاکھوں کی تعداد میں عوام اور کارکنان اسلام آباد کی جانب ایک سیلاب کی مانند مارچ کیا تو عمران خان کے اوسان خطا ہو جائیں گے اور عمران خان کی سیلکڈڈ حکومت جس بوسیدہ دیوار کے سہارے کھڑی ہے وہ ایک جھٹکے میں زمین بوس ہو جائے گی انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت دراصل جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف کی آمرانہ حکومتوں کا تسلسل ہے لیکن عمران خان یہ نہ بھولیں کہ پیپلز پارٹی کے جانثار سرفروش جیالے اور بہادر کارکن ہیں جن کو جنرل ضیاء اور جنرل پرویز مشرف کی آمرانہ حکومتیں نہ جھکا سکیں نہ ڈرا سکیں تو عمران خان کس کھیت کی مولی ہیں انہوں نے مطالبہ کیا کہ گرفتار اراکین پارلیمنٹ اور کارکنوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔
![]()