کراچی(رپورٹ: ذیشان حسین) پاکستان سمیت دنیا بھرمیں آج بزرگوں کا عالمی دن منایا جارہا ہے جس کا مقصد معاشرے میں بزرگوں کے مقام اور اہمیت کو اجاگر کرنا اور ان کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔
پہلی باراس دن کو منانے کا اعلان 14 دسمبر 1990 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے کیا تھا۔ بزرگوں کے عالمی دن کے موقع پر ہمارے معاشرے میں ایسے بھی رجحانات ہیں جوکہ بزرگوں کے لیے تشویشناک ہیں- والدین اپنے بچوں کی اچھی تربیت اور بہتر زندگی کیلئے اپنا سب کچھ قربان کر دیتے ہیں ان کی خواہش ہوتی ہے کہ انکے بچے بڑھاپے میں انکا سہارا بنے تاہم کچھ بچے اپنے والدین کو بوجھ سمجھ کر یا تو گھر سے نکال دیتے ہیں یا پھرانکو اولڈ ایج ہاوسز میں چھوڑ آتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں جہاں بزرگوں کو رحمت اور نعمت سمجھا جاتا وہاں بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں اولڈ ہومز کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے اور یہ رجحان باعث تشویش ہے۔ اولڈ ایج ہاوسز میں رہنے والے ہر انسان کی اپنی ایک الگ داستان ہوتی ہے۔ اولڈ ایج ہومز کے باسی اپنے بچوں کو ہر وقت یاد کرتے ہیں اور اس آس پے بیٹھے رہتے ہیں کہ ایک دن آئے گا کہ انکے بچے انکو یہاں سے اپنے گھر لے جائیں گے۔
![]()