کوالالمپور/ ملائیشیا (رپورٹ: عامر وقاص چوہدری) بھارتی حکومت کے اعتراض کے باوجود ملائیشین وزیراعظم مہاتیر محمد اقوام متحدہ میں کی گئی تقریر میں کشمیر سے متعلق موقف پر بھی ڈٹ گئے۔ یاد رہے کہ ایک عالمی ایونٹ کے دوران موجود ملائیشین وزیراعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد کو وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے فون کیا تھا اور کہا تھا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے نقطہ نظر جانیں۔ اس ایونٹ کے دوران ملائیشین وزیراعظم کی نریندر مودی سے ملاقات ہوئی تھی۔ یہ ملاقات 27 ستمبر کو ہوئی تھی۔ اس معاملے پر انہوں نے اپنے خیالات کا اظہار بھارتی ہم منصب کے ساتھ بھی کیا تھا۔ گزشتہ دنوں بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اعتراض اٹھایا تھا کہ کشمیر بھارت کا اندورنی معاملہ ہے لیہذا ملائیشین وزیراعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد اپنا اقوام متحدہ میں دیا ہوا بیان واپس لیں، مہاتیر محمد اقوام متحدہ میں کی گئی تقریر پر ڈٹے ہیں، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تقریر کے دوران انہوں نے جنرل اسمبلی میں بھارت کو مقبوضہ کشمیر پر قابض قرار دیا تھا۔ میڈیا سے گفتگو کے دوران ملائیشیا کے وزیراعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد نے ایک بار پھر مسئلہ کشمیر کے حل کا مطالبہ کر دیا ہے اور کہا ہے کہ مقبوضہ وادی میں تشدد کا استعمال نہیں ہونا چاہیے، مسئلہ پر پاکستان اور بھارت کے درمیان پر امن حل نکلنا چاہیے، ملائیشیا تشدد کے خلاف ہے۔ ملائیشین وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر کے پر امن حل کے لیے پاکستان اور بھارت مذاکرات کریں یا پھر ثالثی کیلئے رضا مند ہوں۔ ایک اور سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر چلنے والی ’بائیکاٹ ملائیشیا مہم‘ سے بھارت اور ہمارے معاشی اور باہمی تعلقات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، کیونکہ مجھے تقریر کے بعد کوئی فیڈ بیک نہیں ملا، میں نے مودی کو کہا تھا کہ اگر کوئی مسئلہ ہے تو مجھ سے رابطہ کریں۔
![]()