ٹنڈو آدم (رپورٹ: رضوان احمد غوری) کراچی سے ملتان جانیوالی بہاؤالدین زکریا ایکسپریس میں کراچی سے سوار ہونے والے میاں چنوں کے رہائشی 40 سالہ ندیم شہزاد ٹنڈوآدم ریلوے اسٹیشن پر کھانے پینے کی اشیاء لینے کے لئے اترا تھا اور ٹرین چل پڑی جس پر ندیم شہزاد نے بھاگ کر ٹرین میں سوار ہونے کی کوشش کی مگر اس کا ایک پیر سلپ ہوجانے کے باعث وہ نیچے گر گیا اور ٹرین کی زد میں آگیا جس کے باعث اس کی دونوں ٹانگیں کٹ گئیں اسٹیشن پر موجود ہاکروں نے کافی چیخ وپکار کی مگر نہ ڈرائیور نے ٹرین روکی اور نہ ہی ٹرین کے گارڈ نے ٹرین رکوائی بعد ازاں ہاکروں نے زخمی کو ریلوے لائن سے اٹھا کر پلیٹ فارم پر منتقل کیا جہاں وہ پون گھنٹے بے یارو مددگار پڑارہا جس کی وجہ سے اس کا کافی خون بہہ گیا نہ ریلوے انتظامیہ اور نہ ریلوے پولیس نے اسکی مدد کی اطلاع ملنے پر ایدھی ایمبولینس والوں نے زخمی ندیم شہزاد کو تعلقہ اسپتال منتقل کیا جہاں سے اسے تشویشناک حالت میں سول اسپتال حیدرآباد منتقل کر دیا گیا. ٹنڈوآدم کی سول سوسائٹی اور سماجی تنظیموں نے وفاقی وزیر ریلوےشیخ رشید احمد، جی ایم ریلوے لاہور، ڈی ایس ریلوے کراچی اور ایس ایس پی ریلوے کراچی سےمطالبہ کیا ہیکہ ٹرین نہ روکنے پر ڈرائیور، ٹرین نہ رکوانے پر گارڈ اور پونے گھنٹے تک زخمی کو اسپتال منتقل نہ کروانے پر اسٹیشن ماسڑ اور پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت محکمہ جاتی کاروائی کی جائے۔
![]()