ڈیرہ اسماعیل خان (رپورٹ: گوہرغنچہ) پولیس مجرموں کی پشت پناہی کررہی ہے ، پولیس افسران کے دفاتر کے چکر کاٹنے کے باوجود کوئی شنوائی نہیں، مجرمان سے تمام اہل خانہ کو شدید جان کا خطرہ ہے، تحفظ فراہم کیا جائے، شہری کی دہائی۔ ڈیرہ کے علاقہ بلال آباد مریالی کے رہائشی ساجدرفیق دھپ نے مقامی ہوٹل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہرشتہ کے تنازع پر پولیس اہلکار اللہ وسایا اسکے بیٹے محمد بلال اور دو بھتیجوں سمیت دیگر افراد نے ہماری غیر موجود گی میں رات کو ہمارے مکان میں گھس کر اسے آگ لگادی اور وہاں سے نقدی، زیوارت اور دیگر قیمتی سامان اٹھاکر لے گئے جبکہ آگ لگنے سے ہمارا پورا مکان جل کرمکمل طور پر تباہ ہوگیا ہے۔ ملزمان اب بھی ہمیں مسلسل سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ ملزمان کی دھمکیوں کی وجہ سے ہم اپنا گھربار چھوڑ کر دربدر ہوگئے ہیں۔ ہماری زندگیوں کو شدید خطرہ لاحق ہے۔ بار بار شکایات کے باوجود پولیس اپنے ہی پیٹی بند بھائیوں کی طرف داری کررہی ہے جبکہ پولیس کی جانب سے الٹا ہمارے خلاف ہی اغوائیگی کا مقدمہ درج کردیا گیا ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کی تبدیلی کے دعوے اور نعرے کھوکھلے ثابت ہوگئے ہیں۔ عمران خان کا نیا پاکستان اور اس کی مثالی پولیس کہاں ہے جو آج ہم انصاف کے حصول کے لئے دربدر ٹھوکریں کھانے کے لئے مجبور ہوگئے ہیں۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ پرامن شہری ہیں اور ہمیشہ اپنے بچوں کو رزق حلال کھلایا ہے۔ ہم نے آج تک کسی کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں کی لیکن اس کے باوجود ہمیں بااثر پولیس اہلکاروں کی ایما پر انتقامی کاروائیوں کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ پولیس اہلکار اللہ وسایا کی بیٹی میرے چھوٹے بھائی سے شادی کرنا چاہتی تھی۔ ہم سب نے اسکا رشتہ مانگا لیکن اس کے والدین نے رشتہ دینے سے انکار دیا جس کے بعد انہوں نے ہماری مرضی کے خلاف پسند کی شادی کرلی اوراب بھی ہمارا ن کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے لیکن اس کے باوجود لڑکی کے اغواء کا مقدمہ میرے، میری بیوی، بھابھی اور والد کے خلاف تھانہ کینٹ میں ایف آئی آر درج کرایا گیا جبکہ ان کی بیٹی عدالت میں مجسٹریٹ کے سامنے 164 ض ف کا بیان دے چکی ہے کہ اسے کسی نے اغواء نہیں کیا بلکہ اس نے اپنی مرضی کے ساتھ میرے بھائی محمد اسماعیل کے ساتھ شادی کرلی اور وہ اس کے ساتھ ہی جانا چاہتی ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ پولیس اہلکار اللہ وسایا اور اسکا بیٹا محمد بلال ہمیں مسلسل دھمکیاں دے رہے ہیں۔ ہم نے ہر جگہ اپنی شکایات پہنچائی لیکن کہیں سے بھی ہماری داد رسی نہیں ہورہی۔ اس نے چیف جسٹس آف پاکستان اور وزیر اعظم پاکستان سے فوری نوٹس لینے اور انہیں انصاف دلانے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔
![]()