Home / اہم خبریں / کراچی میں پی ٹی آئی کو مینڈیٹ ملا نہیں دیا گیا ہے اور صرف اس لئے دیا گیا تاکہ اس شہر پر مہاجروں کا دعویٰ کمزور کیا جاسکے- آفاق احمد کی پریس کانفرنس

کراچی میں پی ٹی آئی کو مینڈیٹ ملا نہیں دیا گیا ہے اور صرف اس لئے دیا گیا تاکہ اس شہر پر مہاجروں کا دعویٰ کمزور کیا جاسکے- آفاق احمد کی پریس کانفرنس

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) مہاجرقومی موومنٹ (پاکستان) کے چیئرمین آفاق احمد نے اپنی رہائش گاہ پر پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کچھ صحافی بھائی جس طرح بلا تحقیق خبریں چلا رہے ہیں اس سے افسوس ہوتا ہے۔ میری عامر خان سے ملاقات سے ملاقات کی جو بے سروپا خبریں چلائی جارہی ہیں وہ جھوٹ کا پلندہ ہے جس کی میں پرزور تردید کرتا ہوں اور صحافی بھائیوں سے میری گذارش ہے کہ بھلے کوریج نہ دیں لیکن اس طرح بے سروپا خبریں چلانے سے گریز کریں کیونکہ اس قسم کی خبروں سے میرے کارکنان کو تکلیف ہوتی ہے۔ آفاق احمد نے کہا کہ میں نے کبھی اپنے دروازے کسی کسی کیلئے بند نہیں کئے اور میری عامر خان سے کورٹ میں پیشی کے دوران بھی ملاقاتیں ہوتی رہی ہیں لیکن ان ملاقاتوں میں کبھی ایک لفظ بھی سیاسی موضوع پر بات نہیں ہوئی اسکے علاوہ مختلف تقاریب میں ڈاکٹر فاروق ستار، ڈاکٹر سلیم حیدر اور عامر خان سمیت مختلف لوگوں سے ملاقاتیں ہوتی ہیں لیکن ان ملاقاتوں کا یہ مطلب نہیں کہ میں کہیں جارہا ہوں یا مہاجر قومی موومنٹ کسی دوسری جماعت میں ضم ہو رہی ہے۔ مہاجر قومی موومنٹ اور دیگر جماعتیں اپنے نظریات کے تحت کام کررہی ہیں جن کے درمیان بات چیت تو ہوسکتی ہے انضمام نہیں۔ آفاق احمد نے کہا کہ گذشتہ روز میری اور عامر خان کی ملاقات اور اس میں رضا حسین کی موجودگی کی بات جھوٹ کا پلندہ ہے کیونکہ رضا حسین کو امریکہ واپس گئے ہوئے 8 روز ہوچکے ہیں۔ آفاق احمد نے کہا کہ میں پہلے بھی کہتا رہا ہوں اور آپ لوگوں کے توسط سے دوبارہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ جو لوگ مہاجر سیاست سے وابستہ ہیں ان کے ساتھ مل بیٹھ کر بات کرنے پر مجھے کبھی اعتراض نہیں رہا اور عامر خان، فاروق ستار، ڈاکٹر سلیم حیدر اور مصطفی کمال سمیت سب لوگوں کو مل بیٹھ کر مہاجروں کے مسائل پر بات کرنی چاہئے اور انکا حل نکالنا چاہئے۔ میں ایسی کسی بھی بات چیت میں ناصرف کھلے دل کے ساتھ شریک ہونگا بلکہ اگر وہ میرے گھر پر بیٹھنا چاہیں تو انہیں خوش آمدید کہوں گا اور اگر مجھے اس حوالے سے کہیں دعوت دیتے ہیں تو میں اس بات چیت میں شریک بھی ہونگا لیکن اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اس بات چیت کا راستہ صرف انضمام سے ہی ہوکر گذرتا ہے تو پھر بیٹھنا یا بات کرنا بے کار ہے کیونکہ بات چیت وہی بہتر ہوسکتی ہے جس میں برابری کی بنیاد پر سب شریک ہوں اور بنیادی نکتہ مہاجر عوام کے مسائل کا حل ہونا چاہئے۔ آفاق احمد نے کہا کہ جس وقت فاروق ستار اور بہادرآباد والوں میں اختلاف شروع ہوا تو میں نے خود فاروق ستار کو کہا تھا کہ ان مسائل کو مل بیٹھ کر حل کریں اور تحریک انصاف میں جانے کا خیال ترک کردیں کیونکہ تحریک انصاف کبھی کراچی کے مہاجروں کی ہمدرد نہیں ہوسکتی، میں تو ان تمام ہی لوگوں کو جو مہاجروں کی سیاست کرتے ہیں یہی مشورہ دونگا کہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے یا پوائنٹ اسکورنگ کرنے کی بجائے ایک دوسرے کیلئے اپنے دلوں میں جگہ پیدا کریں اور اپنی قوم کی بھلائی کا کوئی راستہ تلاش کریں، اس کوشش میں انکا بھرپھرپور ساتھ دونگا۔ آفاق احمد نے کہا کہ میری اور عامر خان کی ملاقات کی جھوٹی خبر جہاں سے چلوائی گئی اسکا مجھے بخوبی اندازہ ہے۔ پہلے عام انتخابات اور بعد میں ضمنی انتخاب کے موقع پر بہادر آباد والوں کا جو حشر ہوا اسکے بعد انکے اپنے کارکنان انہیں چھوڑ کر جارہے ہیں اور بہادرآباد کیمپ شدید مایوسی کا شکار ہے جس پر سے توجہ ہٹانے اور لوگوں کو یہ تاثر دینے کیلئے کہ بڑی تعداد میں لوگ متحدہ میں شمولیت اختیار کرنے والے ہیں، کیلئے یہ سارا ڈرامہ کیا گیا۔ میں ان سے بھی کہنا چاہتا ہوں کہ اس قسم کی ڈرامہ بازی کی بجائے اپنے رویوں اور پالیسیوں پر غور کریں۔ اگر بہادرآباد والوں نے مہاجر عوام کیلئے کچھ کیا ہوتا یا انکے مسائل حل کرنے کیلئے سنجیدہ کوششیں کی ہوتیں تو شاید یہ وقت ہی نہ آتا۔ آفاق احمد نے کہا کہ میں نے پہلے بھی کہا اور اب بھی کہتا ہوں کہ کراچی میں پی ٹی آئی کو مینڈیٹ ملا نہیں دیا گیا ہے اور صرف اس لئے دیا گیا تاکہ اس شہر پر مہاجروں کا دعویٰ کمزور کیا جاسکے اسکے علاوہ متحدہ کو ملنے والی 4 سیٹیں بھی اسی انجیئرڈ الیکشن کی سوغات ہیں کیونکہ اگر متحدہ کی نشستیں انکی اپنی ہوتیں تو پھر این اے 243 کبھی انکے ہاتھ سے نہ جاتی۔ مہاجر اکثریتی علاقوں سے ایک محسود کی کامیابی بہادرآباد والوں کیلئے تمانچہ ہے کہ انکے علاقے کی نمائندگی اب محسود قبائل کا شخص کرے گا، اس محسود قبیلہ کا شخص کی جس کے علاقے میں کوئی باہر سے ٓانے والے بغیر اجازت گذر بھی نہیں سکتا وہی محسود آج تمہارے شہر میں تمہاری نمائندگی کرے گا، جب تک مہاجر متحد نہیں ہونگے تب تک قبائلی لوگ باہر سے آکر کامیاب ہوتے رہیں گے۔آفاق احمد نے کہا کہ ہر مہینے دو مہینے بعد مہاجر قومی موومنٹ کی متحدہ میں ضم ہونے کی خبریں چلائی جاتی ہیں میں ان تمام خبریں چلانے والوں سے کہتا ہوں کہ خدارا اب یہ سلسلہ بند کردیں۔ مہاجر قومی موومنٹ متحدہ میں سے نہیں نکلی کہ جو واپس ضم ہوجائے، متحدہ قومی موومنٹ مہاجر قومی موومنٹ سے نکلی ہے اس لئے جس کو واپس آنا ہے وہ مہاجر قومی موومنٹ میں واپس آجائے میرے دروازے سب کیلئے کھلے ہیں۔ آفاق احمد نے کہا کہ باہمی انضمام سے زیادہ اہم مسئلہ کراچی کے عوام کو انکے حقوق دینے کا ہے، مارٹن کوارٹر اور دیگر علاقوں کے مکینوں کے سروں پر لٹکتی بے گھری کی تلوار ہٹانے کا ہے، متحدہ جس کے ووٹ وفاقی حکومت کیلئے زندگی اور موت کا مسئلہ تھے اگر چاہتی تو مارٹن کوارٹر، جمشید روڈ سمیت دیگر علاقوں کے گھر ایک دن مین بچ سکتے تھے لیکن ایسا نہیں کیا گیا بلکہ میرے پاس تو ایسی بھی اطلاعات ہیں کہ اس مسئلہ پر بھی متحدہ نے سودے بازی کرلی ہے تاکہ یہاں کی زمیں جو آغا خان کو دینے کی اطلاعات ہیں اس میں سے حصہ وصولی کیلئے سازباز کرلی گئی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں آفاق احمد نے کہاکہ میں صرف اس شہر کو اسکا حق دینے کی بات کرتا ہوں، میں نے زندگی بھر مخالفت برائے مخالفت کی سیاست نہیں کی جس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ میں نے میئر کو اختیارات دینے کی ایک سے زائد بار بات کی اور یہ جانتے ہوئے بھی کہ میئر کا تعلق متحدہ قومی موومنٹ سے ہے پھر بھی شہر کے وسیع تر مفاد میں اسکو اختیارات دینے کی بات کی کیونکہ مجھے یہ پتا ہے کہ کراچی کو بے دست و پاء کرنے کیلئے شہری حکومت کے تمام وسائل اور اختیارات پر صوبائی حکومت قابض ہوچکی ہے اور اگر ہم اسکے لئے آواز نہیں اٹھائیں گے تو پھر کوئی باہر سے آکر آواز نہیں اٹھائے گا۔ الطاف حسین کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں آفاق احمد نے کہا کہ میری بات کو توڑ مروڑ کر اگر پیش نہیں کیا جائے گا تو میں کہتا ہوں کہ اگر الطاف حسین پاکستانی پاسپورٹ پر پاکستان واپس آتے ہیں اور انہیں سرکاری ایجنسیاں کلیئر کردیتی ہیں اور واپس آکر وہ مہاجر قومی موومنٹ کو بحال کرتے ہیں تو ہم انکی پارٹی انکے حوالے کردیں گے۔صوبے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر آفاق احمد نے کہا کہ مہاجر قومی موومنت نے سندھ کی انتظامی بنیادوں پر تقسیم اور جنوبی سندھ صوبے کے قیام کیلئے نوے کے دہائی میں تحریک شروع کی اور ایک طویل تحریک چلائی جو اب بھی جاری و ساری ہے۔ بہت سے لوگ مختلف ناموں سے صوبے کے قیام کیلئے کوشاں ہیں تو میں ان سب سے کہنا چاہوں گا کہ ہم جنوبی سندھ سوبے کی تحریک منظم اور بھرپور انداز میں چلا رہے ہین جس میں سب کو اپنا حصہ شامل کرنا چاہئے کیونکہ جنوبی سندھی صوبہ کسی ایک قوم یا زبان بولنے والوں کے بجائے سندھ کے چالیس فیصد حصے میں بسنے والی تمام قومیتوں کا صوبہ ہوگا جس میں اکثریت کو اقلیت کے حقوق غصب کرنے سے روکا جاسکے گا۔ آخر میں آفاق احمد نے ایک بار پھر زور دے کر کہا کہ اگر میڈیا میری کوریج نہیں کرنا چاہتا ہے تو نہ کرے، میں اسکا شکوہ کسی سے نہیں کرونگا لیکن خدارا میرے حوالے سے جھوٹی اور بے بنیاد خبریں چلانے سے اجتناب برتا جائے، میں واضح کردینا چاہتا ہوں کہ میرا متحدہ قومی موومنٹ سے کبھی کوئی تعلق نہیں رہا اور نہ کبھی ہوسکتا ہے۔

 

 

About admin

یہ بھی پڑھیں

سیرتِ نبویؐ انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہے، موجودہ دور میں پیروی کی اشد ضرورت ہے۔

    درود پاک کونسل کی افتتاحی تقریب، نبی کریمؐ کی تعلیمات پر عمل ہی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے