تازہ ترین
Home / اہم خبریں / انصار برنی کی مقبوضہ کشمیر میں پھنسی خواتین اور بچوں پہ حکومتی خاموشی پر شدید اظہار تشویش، حکومتی خاموشی سوالات کو جنم دے رہی ہے۔ انصار برنی

انصار برنی کی مقبوضہ کشمیر میں پھنسی خواتین اور بچوں پہ حکومتی خاموشی پر شدید اظہار تشویش، حکومتی خاموشی سوالات کو جنم دے رہی ہے۔ انصار برنی

کراچی (نیوز ڈیسک) جنیوا میں اقوام متحدہ کے سابق مشیر خاص برائے انسانی حقوق، سابق وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق اور انصار برنی ٹرسٹ انٹرنیشنل کے سربراہ انصار برنی ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں اگر کسی بھی ملک کی صورتحال مقبوضہ کشمیر جیسی خراب ہوجائے تو زندہ قومیں اور غیرت مند حکمران سب سے پہلے ایسے ممالک میں پھنسے اپنے شہریوں اور ان کی زندگیاں بچانے کے لئے فکر مند ہوتے ہیں لیکن میں پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان اور ان کی حکومت پہ حیران ہوں کہ بار بار توجہ دلانے کے باوجود انہیں مقبوضہ کشمیر میں پھنسی تین سو سے زائد پاکستانی و آزاد کشمیر کی خواتین اور ان کے پاکستانی بچوں کی کوئی فکر نہیں جو ایک گہرا سوالیہ نشان بنتا جا رہا ہے؟ انصار برنی نے کہا کہ اطلاع ملی ہے کہ کرفیو کے بعد سے جموں و کشمیر میں پچھلے دس سے پندرہ سالوں سے پھنسی بعض خواتین کے کشمیری شوہروں کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے اور مقبوضہ کشمیر میں کئی ہفتوں سے جاری کرفیو کے بعد سے ان خواتین اور بچوں سے متعلق بھی کوئی اطلاع نہیں مل رہی جبکہ پاکستانی حکومت کی اپنے ہی شہریوں سے بے فکری بہت سے سوالات جنم دے رہی ہے ؟ انصار برنی نے کہا کہ کشمیری لڑکوں سےشادی کے بعد شوہر اوربچوں کے ساتھ جموں و کشمیر جانے والی پاکستانی لڑکیاں گزشتہ دس سے سولہ سالوں سے جموں کشمیر میں پھنسی ہوئی ہیں جن میں سے کچھ کو طلاق جبکہ کچھ بیوہ بھی ہو چکی ہیں اور انصار برنی ٹرسٹ ان کی وہاں بحالی یا پھر پاکستان واپسی کے لئے کوشاں ہے لیکن وزیر اعظم عمران خان اور ان کے وزرا کی جموں و کشمیر میں پھنسی خواتین پہ مسلسل خاموشی سوالیہ نشان بن چکی ہے ؟اور اب انصار برنی ٹرسٹ کو کنفرم اطلاعات ملی ہیں کہ جموں و کشمیر میں کرفیو کے بعد ان خواتین میں سے بعض پاکستانی خواتین کے شوہروں کو بھی بے گناہ گرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ کرفیو لگنے سے اب تک ان پاکستانی خواتین اور ان کے بچوں سے متعلق بھی کوئی اطلاع نہیں مل رہی جبکہ ان میں سےاکثر خواتین بیمار بھی ہیں۔ انصار برنی ایڈووکیٹ نے حکومت سے ایک مرتبہ پھر مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارت سے ان پاکستانی خواتین اور بچوں کے لئے آواز اٹھائیں اور اس آواز کو بین الاقوامی سطح تک لے جائیں۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

وفاقی اردو یونیورسٹی میں مبینہ لاقانونیت کے خلاف اساتذہ کا کراچی پریس کلب پر احتجاج، آصف زرداری سے نوٹس لینے کا مطالبہ

کراچی، (رپورٹ، ذیشان حسین) وفاقی اردو یونیورسٹی کے عبدالحق کیمپس کی انجمن اساتذہ کے زیر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے