تازہ ترین
Home / Home / استاد معمار قوم ۔۔۔ تحریر : شگفتہ خان ۔ بھلوال

استاد معمار قوم ۔۔۔ تحریر : شگفتہ خان ۔ بھلوال


یہ سچ ہے کہ”استاد معمار قوم ہوتا ہے "
ایک قوم کو بنانے کے لیے استاد کا ہونا ضروری ہے۔ صرف ایک کتاب ہو اور پڑھانے والا اور سمجھانے والا نہ ہو تو وہ کتاب کس کام کی؟ کوئی بھی شعبہ ہو جب تک کوئی بتائے گا نہیں تو اس میں طاق کیسے ہوسکتے ہیں؟
والدین اپنے بچوں کو سکھانے کے لیے استاد کے حوالے کر دیتے ہیں اور استاد اپنے بچوں کی طرح ان کو پڑھاتا ہے، سکھاتا ہے اس کے پاس جو علم اور تجربہ ہوتا ہے وہ سب اپنے طالبعلموں کو دیتا ہے۔ جو غلطیاں اسکی زندگی میں کچھ نقصان کا باعث بنیں وہ ہمیشہ چاہتا ہے کہ بچےّ وہ غلطی کبھی نہ کریں۔
پرائمری سکول کا استاد صرف پڑھاتا نہیں پالتا بھی ہے۔ والدین سے ایک بچہّ نہیں سنبھلتا اور استاد 30 سے 40 بچوں کو سنبھال بھی لیتا ہے اور پڑھا بھی لیتا ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ ان سے مانوس ہوتا چلا جاتا ہے اور پھر انکی خوشی ، اپنی خوشی، ان کا دکھ ،اپنا دکھ بن جاتا ہے۔
وہ” معمار قوم ” توقیر کے قابل ہوتا ہے کہ
والدین کے بعد ایک استاد ہی تو ہوتا ہے جو اپنے طالبعلموں کے ساتھ بے لوث ہوتا ہے اور اس کی کامیابی میں ان کے والدین سے زیادہ خوشی محسوس کرتا ہے۔ ان کو زینہ بہ زینہ کامیابی کی طرف گامزن ہونے میں مدد کرتا ہے۔ ان کے راستے میں آنے والی مشکلات کو حل کرنے میں مدد کرتا ہے اور ان کا حوصلہ بڑھاتا ہے۔
کیوں نہ عزت کے قابل ہو وہ استاد جو آپکو سنوار دیتا ہے باپ آسمان سے زمین پہ لاتا ہے تو استاد ہی وہ ہستی جو پھر سے آپکو آسمان کی بلندیوں تک پہنچا دیتا ہے۔
دانا ٹھیک کہتے ہیں کہ "با ادب با نصیب، بے ادب بے نصیب "
با ادب بچوں کے لیئے دل سے دعا نکلتی ہے۔ وہ ساری عمر یاد تو رہتے ہیں ایک مثال کے طور پہ بھی ان کو دوسرے بچوں کے سامنے پیشں کیا جاتا ہے۔ ہر محفل میں اچھے لفظوں میں یاد کیا جاتا ہے۔ بے ادب بچوں کے لیئے دل سے ہدایت کی دعا نکلتی ہے۔
وہ استاد جو آپکو نکھار دیتا ہے آپکو کتاب کے سبق بھی پڑھاتا ہے اور زندگی کے سبق بھی۔ وہ بہت عزت کے قابل ہے۔ جو اپنا کام سمجھ کے نہیں اپنا فرض سمجھ کے بچوں کی تربیت کرتا ہے۔ ان کی رہنمائی کرتا ہے اور ان کو اعلیٰ مقام تک پہنچاتا ہے ابتدائی تعلیم سے لے کر اعلیٰ مقام تک ایک استاد ہی تو ہوتا ہے جو اپنے طالبعلموں کے ہم قدم ہوتا ہے۔
وہ معمار قوم بہت عزت اور توصیف کے قابل ہے جو والدین سے بڑھ کر بچوں کو عزیز رکھتا ہے۔ ان میں آگے بڑھنے کا احساس اور جذبہ پیدا کرتا ہے۔
یہ ڈاکٹرز، انجینئرز، آ فیسرز ان کو اس درجہ تک لانے والا باپ کے بعد استاد ہی تو ہوتا ہے۔
کسی نے سچ کہا ہے۔
"استاد بادشاہ نہیں ہوتا لیکن بادشاہ بنا دیتا ہے”
اور پھر اپنے طالبعلم کو اعلیٰ مقام پر دیکھ کر خوش بھی بہت ہوتا ہے۔
کبھی سوچا ہے آپ نے کہ وہ شخص کتنا بے لوث اور مخلص ہے آپ کے بچوں کے ساتھ ۔ 40 بچوں میں سے کوئی اس کا رشتہ دار نہیں ہوتا۔ نہ ہی آپ کا تنخواہ دار کوئی ملازم ہوتا۔ وہ گورنمنٹ ملازم ہے نہ بھی پڑھائے تو تنخواہ ملے گی اسے لیکن وہ پھر بھی بے لوث ہوکر پڑھا رہا ہے تو قابل ستائش اور قابل عزت ہے۔ والدین کا تو صرف ایک بیٹا لاڈلا ہوتا ہے استاد کی لاڈلی تو پوری کلاس ہوتی ہے۔والدین اپنے بچوں کی تربیت کے لیئے ہاتھ اٹھا لیتے ہیں استاد ایسا کرے تو اعتراض کیوں؟؟؟؟؟ وہ بھی تو بہتری ہی چاہتا ہے۔ پہلے والدین خود عزت کریں اساتذہ کی تاکہ ان کے بچےّ بھی کر سکیں۔

About Dr.Ghulam Murtaza

یہ بھی پڑھیں

حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا

اسلامآباد، (نوپ نیوز) پیٹرول کی قیمت میں کوئی ردوبدل نہیں گیا، ڈیزل کی فی لیٹر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے