اسلام آباد (بیورو رپورٹ) وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ اگر پارلیمنٹ کو کوئی مخصوص قانون بنانے کا کہہ سکتی ہے تو پھر پارلیمنٹ سپریم ادارہ نہیں ہے۔ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے پر رد عمل دیتے ہوئے فواد چودھری نے ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ بڑا سوال یہ ہے کہ ملک میں سپریم کون ہے، پارلیمان یا سپریم کورٹ؟ کیا سپریم کورٹ پارلیمنٹ کو کوئی مخصوص قانون بنانے کا کہہ سکتی ہے؟ اگر کہہ سکتی ہے تو پھر پارلیمان مقتدر اعلیٰ نہیں ہے، اسی طرح یہ کہنا کہ روایات کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، درست تشریح نہیں ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ وزیر اعظم کے ایگزیگٹو اختیارات کو پارلیمنٹ کیسے استعمال کر سکتی ہے جبکہ وہ انتظامی ادارہ بھی نہیں؟ آرمی چیف کی مدت کا تعین پارلیمان کریں! سپریم کورٹ یہ حکم کیسے دے سکتی ہے؟ فیصلے میں 1956 اور 1962 کے آئین پر سیر حاصل گفتگو نہیں ہے نہ ہی ان پارلیمانی تقاریر کو دیکھا گیا جو 1973 کے آئین میں آرٹیکل 243 کی تشریح کرتی ہیں۔ فواد چودھری نے تمام تر سوالات اٹھانے کے بعد کہا کہ بہر حال سپریم کورٹ، سپریم عدالت ہے، حتمی فیصلے کا اختیار تو بہرحال سپریم کورٹ کو ہی ہے۔
![]()