ڈیرہ اسماعیل خان (رپورٹ: گوہر غنچہ) ڈیرہ اسماعیل خان شہر کے ہزاروں باسی گندا پانی پینے پر مجبور، سیوریج کی پائپ لائنیں جگہ جگہ سے لیک ہونے کی وجہ سے صاف پانی میں سیوریج کا پانی شامل ہونے لگا، شہری گندا بدبو دار، مضر صحت پانی پینے پر مجبور، منرل واٹر فروخت کرنے والوں کی چاندی، غریب عوام صاف پانی کیلئے دربدر، خواتین اور بچے واٹر فلٹریشن پلانٹس پر پانی لینے جائیں تو وہاں لمبی قطاروں میں کھڑا ہونا پڑتا ہے، شہر کے مختلف علاقوں میں لگے ہوئے واٹر فلٹریشن پلانٹس کے واٹر فلٹر تبدیل نہ ہونے کے باعث واٹر فلٹر پلانٹس خاموش زہر اور قاتل بن چکے ہیں، جبکہ ا س سلسلہ میں میونسپل کمیٹی کی انتظامیہ کی طرف سے کوئی بھی بندوبست نہیں کیا جا رہا، جس کے باعث پانی میں بیماریاں پھیلانے والے جراثیم شامل ہو رہے ہیں اندرون شہر کے علاقہ مکینوں نے بتایا کہ واٹر سپلائی کی لائنیں زنگ آلود ہونے کیوجہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکی ہیں جسکی وجہ سے سیوریج کا گندہ پانی واٹر سپلائی کے پانی میں شامل ہو کر گھروں میں سپلائی کیا جارہا ہے، شہری اس پانی کو امرت سمجھ کر پینے پر مجبور ہیں ڈیرہ اسماعیل خان شہر کے شہری بنیادی سہولتوں سے بری طرح محروم ہو چکے ہیں، منتخب عوامی نمائندوں نے شہریوں کے مسائل حل کرنے کی بجائے راہ فرار اختیار کر رکھی ہے۔ جسکی وجہ سے ہزاروں شہری خطرناک موزی امراض میں مبتلا ہو رہے ہیں، شہریوں نے چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈیرہ شہر کے شہریوں کو بنیادی سہولتیں مہیا کی جائیں تاکہ گندہ پانی پینے کیوجہ سے موذی امراض سے محفوظ رہ سکیں۔
![]()