ڈیرہ اسماعیل خان (رپورٹ: گوہر غنچہ) عوام کو بہترین روزگار اور بہتر مستقبل کا نعرہ لگا کر برسر اقتدار آنے والی حکومت کی جانب سے عالمی مالیاتی اداروں کے دباؤ پر بجلی کے نرخوں میں اضافہ صارفین کو زندہ درگور کرنے کے مترادف اورغریب مکاؤ مہم کا حصہ ہے بجلی کے نرخوں میں اضافے کیوجہ سے پسماندہ طبقے کیلئے ہی نہیں سفید پوش شہریوں کیلئے بھی بجلی کے بل ادا کرنا انتہائی مشکل ہو رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار ڈیرہ اسماعیل خان کے شہریوں اور عمائدین نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کی ناقص پالیسیوں کے باعث بجلی، گیس کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافے کیوجہ سے غربت میں اضافہ اور ترقی کے عمل کو خطرات لاحق ہو چکے ہیں، عوام مہنگائی سے تنگ خودکشیاں کرنے پر مجبور ہیں مگر آئی ایم ایف عالمی مالیاتی اداروں کے دباؤ پر معاشی، اقتصادی پالیسیوں نے ملک کی ایک بڑی آبادی کو بھوک افلاس کا شکار بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کی معاشی مشکلات اور ضروریات زندگی کی پالیسی بنانے کی بجائے آئی ایم ایف سے قرضوں کے حصول کے لئے اپنے شہریوں کا گلہ گھوٹنے والی پالیسیاں لاگو کر کے معاملات کو بدتر بنانے میں کوشاں ہے، جس کا خمیازہ حکمرانوں کو عوامی غیض و غضب کی صورت میں کرنا پڑیگا، حکمران وقت کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے آئی ایم ایف کے ایجنڈے کی بجائے قوم کو معاشی بحران سے نکالنے کے لئے ٹھوس اقتصادی و معاشی پالیسیاں وضع کرے، اسی میں ایک ملک و قوم سمیت موجودہ نظام کی بھی بھلائی شامل ہے۔
![]()