ڈیرہ اسماعیل خان (رپورٹ: گوہر غنچہ) ضلعی انتظامیہ، محکمہ فوڈ اور پی ٹی آئی حکومت تبدیلی سرکار کی نااہلی، ڈیرہ اسماعیل خان میں بیس کلو گرام آٹے کا تھیلہ گیارہ سو روپے تک پہنچ گیا، شہر میں آٹے کا بحران پیدا ہونے کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں، غریب سے دو وقت کی روٹی بھی چھین لی جانے لگی، ڈیرہ میں آٹا بحران کے پیش نظر تاجروں نے بڑی مقدار میں آٹے کا سٹاک کرنا شروع کرلیا ہے۔ شہر میں آٹے کی شدید قلت کے خطرات کے باوجود ضلعی انتظامیہ اور محکمہ خوراک ڈیرہ نے خاموشی اختیار کرلی ہے۔ ذرائع کے مطابق ڈیرہ میں ذخیرہ اندوزوں کی جانب سے لاکھوں ٹن آٹا شہر کے مختلف مقامات پر خفیہ طور پر سٹاک کرلیا گیا ہے۔ آٹے کی شدید قلت کے خطرات کے پیش نظر شہر میں نانبائیوں نے بھی بڑی تعداد میں آٹا سٹاک کرنا شروع کردیا ہے، سرخ آٹا، سفید آٹا، سپیشل فائن آٹا کی قیمتوں میں پہلے ہی اضافہ ہوچکا ہے آٹے کی شدید ترین قلت کے خطرات کے پیش نظر ڈیرہ کے شہریوں میں شدید تشویش اور پریشانی پائی جاتی ہے، شہریوں کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت نے پہلے ہی مہنگائی کا طوفان برپا کر رکھا ہے لیکن اب غریب سے دو وقت روٹی کا نوالہ بھی چھینا جارہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شہر میں آٹے کے بڑھتے ریٹ اور بحران کے باوجود محکمہ خوراک ڈیرہ کی جانب سے تاحال عملی اقدامات نہیں اٹھائے جارہے ہیں جب سب اچھا کی رپورٹ پیش کی جارہی ہیں۔ دوسری جانب شہر میں نانبائیوں نے بھی آٹے کی قیمت میں اضافہ کے باعث روٹی کی قیمت میں اضافہ کا فیصلہ کیا ہے جبکہ بعض مقامات پر روٹی کا وزن بھی کم کر دیا گیا ہے، ۔شہریوں نے پی ٹی آئی حکومت کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
![]()