کراچی، (رپورٹ، ذیشان حسین) سندھ پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن (سپلا) کراچی ریجن کے زیرِ اہتمام کالجز کی خستہ حالی، فائیو ٹیئر فارمولے سمیت دیگر مطالبات کے حق میں سندھ سیکرٹریٹ کے سامنے علامتی دھرنا اور احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ اس موقع پر گورنمنٹ ایس ایم آرٹس اینڈ کامرس کالج سے ایک ریلی نکالی گئی جو سندھ سیکرٹریٹ کے سامنے احتجاجی جلسے میں تبدیل ہو گئی۔ ریلی کی قیادت سپلا کے مرکزی صدر پروفیسر منور عباس، مرکزی سیکرٹری جنرل پروفیسر غلام مصطفیٰ کاکا، کراچی ریجن کے قائم مقام صدر پروفیسر آصف منیر اور جنرل سیکرٹری کراچی ریجن پروفیسر نہال اختر نے کی، جبکہ کراچی بھر کے کالج اساتذہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سپلا کے مرکزی صدر پروفیسر منور عباس نے کہا کہ گزشتہ ایک ماہ سے کالج اساتذہ اپنے مسائل کے حل کے لیے سراپا احتجاج ہیں، مگر افسوس کہ وزیرِ تعلیم سندھ نے تاحال کوئی رابطہ نہیں کیا، جو کالج ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں عدم دلچسپی کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ سیکرٹریٹ کے سامنے علامتی دھرنے کا مقصد بیوروکریسی کی توجہ اساتذہ، طلبہ اور کالجز کے سنگین مسائل کی جانب مبذول کرانا ہے، جبکہ 12 فروری کو سندھ بھر کے کالج اساتذہ بلاول ہاؤس کی جانب مارچ کریں گے۔
کراچی ریجن کے قائم مقام صدر پروفیسر آصف منیر نے اپنے خطاب میں اساتذہ کے مطالبات پیش کرتے ہوئے کہا کہ وزیرِ تعلیم کے اعلان کے مطابق سندھ کالج اساتذہ کے لیے فوری طور پر فائیو ٹیئر فارمولا نافذ کیا جائے، خالی آسامیوں پر ڈی پی سی، بورڈ ون اور بورڈ ٹو کے انعقاد کے ساتھ نئی بھرتیاں کی جائیں، الاؤنسز میں مہنگائی کے تناسب سے اضافہ کیا جائے، سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کے تحت انٹرمیڈیٹ کی کمپیوٹر اور کامرس کی کتابیں شائع کی جائیں، غیر تدریسی عملے کی بھرتی، کالجز کی بہتری، منصفانہ ٹرانسفر پوسٹنگ پالیسی اور سپلا کو اسٹیئرنگ کمیٹی میں شامل کیا جائے۔