تازہ ترین
Home / اہم خبریں / نگراں صوبائی وزیر اطلاعات ، اقلیتی امور ،سماجی تحفظ و صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ کی مہٹہ پیلس میں منعقدہ نگاہ آرٹ ایوارڈ2024 میں خصوصی شرکت

نگراں صوبائی وزیر اطلاعات ، اقلیتی امور ،سماجی تحفظ و صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ کی مہٹہ پیلس میں منعقدہ نگاہ آرٹ ایوارڈ2024 میں خصوصی شرکت

کراچی، ( نوپ نیوز)نگراں صوبائی وزیر اطلاعات ، اقلیتی امور ،سماجی تحفظ و صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے بینک الفلاح نگاہ آرٹ ایوارڈ2024 میں خصوصی شرکت کی۔آرٹ ایوارڈ تقریب کا انعقاد کراچی کے قدیم ثقافتی ورثے مہٹہ پیلس میں کیا گیا تھا۔ مہٹہ پیلس میں پاکستان کے مختلف مصوروں اور مجسمہ سازوں کے فن پارے نمائش میں رکھے گئے تھے ۔نگراں صوبائی وزیر اطلاعات اقلیتی امور سماجی تحفظ وصدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے نگاہ آرٹ ایوارڈ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے بہت اچھا لگ رہا ہے کہ میں اس رنگا رنگ تقریب کا حصہ ہوں میں توقیر صاحب کا شکر گزار ہوں اور سمجھتا ہوں کہ ان آرٹسٹوں کا کام پاکستان کے دوسرے شہروں میں بھی نمائش کے لیے پیش کیا جاناچاہیے۔میں یہاں پر نہ صرف پاکستان آرٹس کونسل کے صدر کی حیثیت سے کھڑا ہوں بلکہ پاکستان کے آرٹ اور کلچر کو پھیلا نے میں ایک بہت بڑا سپورٹر بھی ہوں۔ہم یہاں صرف فن پاروں کی نمائش کے لیے اکٹھا نہیں ہوئے۔ہمارے نئے طالب علم آرٹ کو پروموٹ کرکے اچھے کام کو آگے بڑھا رہے ہیں۔آرٹ خوبصورتی دکھاتا ہے اور انسانی احساسات کا آئینہ دار ہوتا ہے۔آرٹ ہمارے کلچر کو شناخت دیتا ہے۔ میں بینک الفلاح کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے آرٹ کو بڑھانے کے لیے اس تقریب میں تعاون کیا۔یہ اس بات کی نشاندھی ہے کہ کارپوریٹ سیکٹر بھی آرٹ اور کلچر کو فروغ دینے میں اپنا حصہ ڈالتی ہے۔ہمارے آرٹسٹ نہ صرف بہترین تخلیق کار بلکہ دنیا بھر میں آرٹ کے ایمبیسیڈر بھی ہیں۔نئے مصور پاکستان کی خوبصورتی کو پروموٹ کر رہے ہیں۔آج ہم یہاں آرٹ کے درمیان تمام رکاوٹوں کو ختم کرنے کے لیے جمع ہوئے ہیں۔ہمارا ہر مصور کے ساتھ تعاون جاری رہے گا تاکہ وہ اپنے کام کو آگے لے کر جائے۔اس موقع پر نگراں صوبائی وزیر اطلاعات، اقلیتی امور، سماجی تحفظ و صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے ناصری زبیری سے مقالمے کے دوران کہا کہ ہمیں سنجیدہ لوگوں کو ساتھ لیکر چلنا چاہیے۔آج آرٹس کونسل کے طالبِ علموں کا آرٹ ورک دبئی کے ذریعے دیگر ممالک میں جارہا ہے اور اچھے پیسے بھی مل رہے ہیں۔آرٹسٹ اپنے کام کے ذریعے اپنی فرم بناتا ہے۔احمد پرویز دو سو روپے میں پینٹنگ بیچتے تھے۔پاکستان کے آرٹسٹوں کو آگے بڑھنا چاہیے۔مجھے امیر لوگوں سے نفرت تھی، آرٹ پر ان کا قبضہ نہیں ہے۔میں مڈل کلاس کے بچوں کو آگے لایا، لیاری اور لیاقت آباد جیسے علاقوں کے طالب علم آج پاکستان کا نام روشن کررہے ہیں۔کراچی شہر میں تھیٹر فیسٹیول ہوتا تھا نہ لٹریچر اور یوتھ فیسٹیول۔ ہم نے عالمی اردو کانفرنس شروع کی جو آج دنیا بھر میں ہورہی یے۔میرے پاس پیسے نہیں تھے۔میں اس کارواں میں اکیلا نہیں تھا۔ گل جی، انور مقصود، مولانا ستار ایدھی، زہرا نگاہ، امر جلیل، ابراہیم جویو، انور شعور سمیت بڑے ادیبوں کو جمع کیا۔رابعہ زبیری اور عقیل بلگرامی کی خدمات قابل تعریف ہیں۔آرٹ سے زیادہ مضبوط کوئی ہتھیار نہیں۔ثقافت کے ذریعے تبدیلی آسکتی ہے۔ہمارے ہاں نثری نظم کا تجربہ بھی کیا گیا۔آرٹ میں تجربے ہو رہے ہیں، پرنٹ بھی ایک فرم ہے۔ اب آپ بچوں کو نہیں روک سکتے ان کی اپنی سوچ ہے۔نگران وزیر اطلاعات، اقلیتی امور، سماجی تحفظ و صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے مختلف آرٹسٹوں کی بنائی گئیں چار پینٹنگز بھی خریدیں ۔معروف شاعر انور شعور نے تقریب میں اشعار پڑھ کر سنائے اور حاضرین سے خوب داد وصول کی۔

About Dr.Ghulam Murtaza

یہ بھی پڑھیں

بنگلہ دیش اے اور سری لنکا اے کی ٹیمیں پاکستان کا دورہ کریں گی، دونوں ٹیمیں دورے میں چار، چار روزہ اور چھ ون ڈے میچ کھیلیں گی

لاہور، (ویب اسپورٹس) بنگلہ دیش اے اور سری لنکا اے کی ٹیمیں اس سال بالترتیب …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے