تازہ ترین
Home / اہم خبریں / ملک میں الیکشن اور جمہوریت کے نام پر تماشہ ہوتا ہے۔ حافظ نعیم الرحمن

ملک میں الیکشن اور جمہوریت کے نام پر تماشہ ہوتا ہے۔ حافظ نعیم الرحمن

کراچی، (رپورٹ، ذیشان حسین)امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ ملک میں الیکشن اور جمہوریت کے نام پر تماشہ ہوتا ہے، اسٹیبلشمنٹ پارٹیوں کو استعمال کرتی ہے اور خود پارٹیاں بھی فروخت ہونے اور آلہ کار بننے کے لیے تیار ہوجاتی ہیں،مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی خاندان اور وراثت پر چلنے والی پارٹیاں ہیں،خودکو جمہوری کہنے والی پارٹیوں کے اندر الیکشن نہیں ہوتے،وڈیرے اور جاگیردار ٹیکس نہیں دیتے لیکن عوام کی قسمت کا فیصلہ کرتے ہیں، ان سے ٹیکس وصول کرنے کے بجائے سارا بوجھ عوام پر ڈالا جاتا ہے،آئی پی پیز سے کیے گئے معاہدے ظالمانہ اور عوام دشمن معاہدوں کی سزا عوام بھگت رہے ہیں، کے الیکٹرک کو ہر حکومت اور پارٹی نے تحفظ دیا، کراچی ملک کامعاشی حب ہے لیکن اس کے ساتھ ہمیشہ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا گیا، ایم کیو ایم ایک بار پھر کراچی کے عوام کو بے وقوف بنارہی ہے، ایم کیوایم ہر حکومت میں شامل رہی لیکن کراچی کے لیے اس نے عملاً کچھ نہیں کیا، ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی نے مل کر کراچی کو تباہ و برباد کیا صرف جماعت اسلامی نے کراچی کے ساڑھے تین کروڑ عوام کے جائز وقانونی حقوق کے حصول اور شہریوں کے گھمبیر مسائل کے حل کی جدوجہد کی، بلدیاتی انتخابات میں جماعت اسلامی کو اہل کراچی نے بھاری مینڈیٹ دیا لیکن ہمارے مینڈیٹ اور سیٹوں کو چوری کیا گیا،عام انتخابات میں اپنے انتخابی نشان ترازو پر حصہ لیں گے اور کسی ایسی پارٹی سے اتحاد نہیں کریں گے جو کراچی کو تباہی و بربادی کی ذمہ دار ہے،کراچی سمیت پورے سندھ میں کرپشن اور لوٹ مار کا دھندا چل رہا ہے، آرمی چیف کی جانب سے ”سسٹم“ پر ہاتھ ڈالنے اورکرپشن کے خاتمے کے اعلان کے باوجود سسٹم چل رہا ہے، معیشت کی تباہی اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کی ذمہ دار وہ تمام پارٹیاں ہیں جو حکومتوں میں رہی ہیں۔جماعت اسلامی کی حقوق کراچی تحریک اور اہل فلسطین سے اظہار یکجہتی کی مہم جاری رہے گی۔19نومبر کو لاہور میں تاریخی فلسطین ملین مارچ ہوگا،نگراں وزیر اعظم دوریاستی حل کی بات کرکے بانی پاکستان قائد اعظم ؒ کے مؤقف کی نفی کررہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز کراچی پریس کلب کی دعوت پرمیٹ دی پریس میں شرکت اورمیڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کیا۔۔اس موقع پر کراچی پریس کلب کے صدر سعید سربازی، سکریٹری شعیب احمد نے بھی خطاب کیا اور حافظ نعیم الرحمن کی آمد کا خیر مقدم کیا۔ اس موقع پر سینئر صحافی اور کراچی پریس کلب کے ممبر سید عامر اشرف نے اپنی کتاب ”پاکستانی جامعات،تعلیم و تحقیق“ اورصحافی عبد الستار وسترو نے اپنی کتاب ”شاہ جوں سورمیوں“پیش کیں۔حافظ نعیم الرحمن نے مزیدکہاکہ کراچی پریس کلب کا شکر گزار ہوں کہ جنہوں نے موقع دیاکہ کراچی کی صورتحال پر گفتگو کی جائے۔کراچی پریس کلب اور صحافتی تنظیموں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ جنہوں نے فلسطین سے اظہار یکجہتی کیا۔حافظ نعیم الرحمن نے مزیدکہاکہ ایم کیو ایم کہتی ہے کہ کراچی کے مسائل حل ہوں اس لیے ہم مسلم لیگ ن کا ساتھ دینا چاہتے ہیں۔ایم کیوایم تو ہر دور میں مسلم لیگ ن کے ساتھ شریک رہی ہے۔رجیم چینج کے موقع پر بھی ایم کیو ایم نے مسلم لیگ ن کا ساتھ دیااور وزارتیں حاصل کیں لیکن کراچی کے عوام کے لیے کچھ نہیں کیا۔پیپلزپارٹی 15 سال سے براہ راست اور تمام اختیارات اور وسائل کے ساتھ سندھ میں حکومت کررہی ہے۔پھر سے صوبے میں ایسے لوگوں کو مسلط نہیں کرسکتے جنہوں نے سندھ سمیت کراچی کوتباہ کردیا۔کے الیکٹرک وفاق کا مسئلہ ہے، ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی نے کے الیکٹرک کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی۔ایک طرف پیپلزپارٹی اور ایم کیوایم کے الیکٹرک کے خلاف ایک بیان دیتی ہیں تو دوسری طرف گورنر ہاؤس میں میٹنگ کرواکر معاملات طے کرلیے جاتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ زرعی زمین سے صرف 4 ارب روپے کا سالانہ ٹیکس جمع ہوا جب کہ تنخواہ دار طبقے نے 264 ارب روپے ٹیکس جمع کروایا ہے۔زمینوں کا چالیس فیصد رقبہ صرف 4 فیصد لوگوں کے پاس ہے۔بڑے جاگیرداروں کے پاس زمینیں بہت زیادہ ہیں لیکن ان پر ٹیکس نہیں لگایا جاتا۔آئی ایم ایف تو یہ نہیں کہتا کہ صرف عوام پر یہ ٹیکس لگایا جائے توپھر جاگیرداروں اور وڈیروں پر ٹیکس کیوں نہیں لگایا جاتا۔اگر جاگیرداروں، وڈیروں پر ٹیکس لگایا جائے اور سرکاری محکموں اور اعلیٰ افسران سے مراعات لے لی جائیں اوران سے بجلی، گیس پیٹرول کے پیسے لیے جائیں تو 2 سے 3 ماہ میں اس کے مثبت اثرات رونما شروع ہوجائیں گے۔جاگیردار، وڈیروں اورحکمرانوں کے بچے توباہر سے تعلیم حاصل کرتے ہیں لیکن یہ حکمران قوم کو جاہل بنارہے ہیں۔ملک کی معیشت عام لوگوں نے تباہ نہیں کی بلکہ ملک چلانے والوں نے تباہ کی جس میں وڈیرے جاگیردار، بیوروکریسی اور ڈکٹیٹرشامل ہیں۔انہوں نے کہاکہ آرمی چیف نے کہا تھا کہ ہم”سسٹم“ پہ ہاتھ ڈالیں گے اور کرپشن کی روک تھام کی جائے گی۔گزشتہ سال کے نسبت مہنگائی کی شرح بجلی، گیس سمیت اشیائے خوردنوش کی قیمتوں میں کئی گناہ اضافہ ہوا ہے۔اگر سسٹم پر ہاتھ ڈالا جاتا تو ملک میں مہنگائی کی شرح میں اضافہ نہیں ہوتا۔نگراں وزیر صحت سندھ ڈاکٹر خالد نیاز نے کرپشن کی روک تھام کے لیے کہاکہ سوا چار ارب روپے اگر ایمرجنسی پر خرچ کیے جائیں تو 12 لاکھ شہری فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔ ایسی روبوٹک مشین جس کا کوئی فائدہ نہیں اس کی مد میں سوا چار ارب روپے خرچ کرنا مناسب نہیں ہے۔لیکن اب صورتحال یہ ہے کہ نگراں وزیر اعلیٰ اور وزیر صحت آمنے سامنے آگئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ جمہوریت کی جڑ طلبہ یونین ہیں۔34 سال سے زائد ہوگئے ابھی تک طلبہ یونین کے انتخابات نہیں کروائے گئے۔وہ پارٹیاں جو خود کو جمہوری کہتی ہیں انہوں نے بھی طلبہ یونین پہ پابندی لگائی۔پیپلزپارٹی نے اعلان کیا تھا کہ طلبہ یونین سے پابندی ہٹا کر انتخابات کروائیں گے لیکن ابھی تک انتخابات ہی نہیں کروائے گئے۔جمہوریت کی بنیادیں خود ان پارٹیوں نے تباہ کیا جو اپنے آپ کو جمہوریت کا چیمپئن کہتی ہیں۔اسٹبلشمنٹ میں موجود جاگیردار اور وڈیرے پارٹیوں کو استعمال کر کے جمہوریت کا جنازہ نکالتے ہیں۔سینٹ اور بلدیاتی انتخابات میں انسانوں کی منڈیا ں لگاکر جمہوریت کا جنازہ نکالا جاتا ہے۔جب نام نہاد سیاست دان خود کو بیچنے کے لیے تیار ہوتے ہیں تو ان کی قیمت لگائی جاتی ہے جس کے نتیجے میں جمہوریت داغ دار ہوتی ہے۔سیاست دانوں کو چاہیئے کہ وہ خود کو ایسی تمام منڈیوں سے دور رکھیں جس سے پاکستان تباہی کی جانب جارہا ہے۔حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ۔امریکہ، فرانس اور برطانیہ اسرائیل کی پشت پناہی کررہے ہیں اور ہر طرح کاساتھ دے رہے ہیں۔امریکہ کا ہمیشہ سے یہی وتیرہ رہا ہے کہ شہر کے شہر تباہ کر کے قبضہ کیا جائے اور وہ اسرائیل کی بھی ہر طرح سے مدد سے کررہا ہے۔حماس کے مجاہدین نے صیہونی افواج کو شکست دے دی ہے۔صیہونی افواج زمینی راستے سے حماس کے مجاہدین سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔اسرائیلی افواج اب فلسطین کے بچوں، بچیوں اور عام شہریوں پر بمباری کررہی ہیں۔ایسی صورتحال میں عرب ممالک اور پورے عالم اسلام کو فلسطین کی پشت پناہی اور مسجد اقصی کے تحفظ کے لیے اقدامات کرنا چاہیئے تھے۔او آئی سی کا اجلاس بھی صرف زبانی جمع خرچ سے زیادہ کچھ نہیں تھا۔اسرائیل جنگی جرائم کا مرتکب ہوا ہے اس کے خلاف فیصلے اور عملی اقدامات کیے جاتے لیکن بد قسمتی سے مذمتی بیان کے سوا کچھ نہیں کیا گیا۔حماس کے مجاہدین کی مزاحمت اور جدوجہد نے ثابت کردیا ہے کہ جنگیں جدید اسلحے اور ہتھیارسے نہیں ایمان سے لڑی جاتی ہیں۔

About Dr.Ghulam Murtaza

یہ بھی پڑھیں

بنگلہ دیش اے اور سری لنکا اے کی ٹیمیں پاکستان کا دورہ کریں گی، دونوں ٹیمیں دورے میں چار، چار روزہ اور چھ ون ڈے میچ کھیلیں گی

لاہور، (ویب اسپورٹس) بنگلہ دیش اے اور سری لنکا اے کی ٹیمیں اس سال بالترتیب …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے