تازہ ترین
Home / پاکستان / سی پی ڈی آی کا وای ایس ڈی او کے اشتراک سے بجٹ سای کے عمل میں عوام کی شمولیت پرایک روزہ اگاہی سیمنار

سی پی ڈی آی کا وای ایس ڈی او کے اشتراک سے بجٹ سای کے عمل میں عوام کی شمولیت پرایک روزہ اگاہی سیمنار

چترال,(رپورٹ، گل حماد فاروقی) ضلع اپر چترال کے ضلعی ہیڈ کوارٹرز بونی کے ایک مقامی ہوٹل میں سنٹر فار پیس اینڈ ڈیویلپمنٹ انیشیٹیو (سی پی ڈی ای) ، سیٹیزن نیٹ ورک فار بجٹ اکاونٹیبلیٹی ( سی این بی اے) کے اشتراک سے ینگ سٹار ڈیویلپمنٹ آرگنایزیشن(وای ایس ڈی او) نے ایک مقامی ہوٹل میں بجٹ سازی کے عمل میں عوامی شمولیت پر آگاہی سیمنار منعقد کروایا۔ اس سیمنار کا موضوع تھا سٹیک ہولڈرز ڈایلاگ آن ٹرانسپیرنٹ بجٹنگ۔ اس موقع پر سابق ناظم یونین کونسل ریشن امیراللہ مہمان حصوصی تھے جبکہ صوبیدار میجر مرزا عالم صدر نے سیمنار کی صدارت کی۔ ینگ سٹار ڈیویلپمنٹ آرگنایزیشن کے منیجر انعام اللہ نے سٹیج سیکرٹی کے طور پر خدمات سرانجام دیتے ہویے اس تقریب کے اعراض و مقاص پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ وای ایس ڈی او ان اداروں کی اشتراک سے بجٹ سازی کے عمل میں عوام کی رایے اور ان کی شمولیت پر اس قسم کے آگاہی سیمنار اور ورکشاپ منعقد کرواتے ہیں تاکہ بجٹ سازی کے عمل میں عوام کی رایے بھی شامل کیا جاسکے کیونکہ بجت عوام کی فلاح و بہبود اور ترقی کیلیے تیار کی جاتی ہے جس میں عوام کی رایے بھی اگر لی جایے تو اس کی شفافیت میں مزید بہتری آیے گی اس موقع پر مہمان حصوصی، صدر مجلس اور وای ایس ڈی او کے چییرمین اسفندیار خان نے بھی اظہار حیال کرتے ہویے بجت سازی کے عمل میں عوام کی اشتراک اوربجٹ کے عمل میں احتساب کے عمل میں عوامی نیٹ ورک کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔انہوں نے اس عمل پر اظہار حیال کرتے ہویے کہا کہ سی پی ڈی آئی نے "پاکستان میں بجٹ کی شفافیت کی صورتحال، بین الاقوامی بہترین طرز عمل” پر اپنی چوتھی سالانہ رپورٹ جاری کر دی ہے۔ رپورٹ میں وفاقی اور صوبائی سطحوں پر بجٹ سازی کے عمل میں خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے اور بجٹ تجاویز پر شہری گروپوں، حکومتی اداروں اور اہم اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ وسیع پیمانے پر تبادلہ خیال کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس رپورٹ کا مقصد صرف نتائج پیش کرنا نہیں ہے بلکہ حکومتوں، سول سوسائٹی اور بڑے پیمانے پر شہریوں کے درمیان بات چیت میں سہولت فراہم کرنا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو شہریوں کی شرکت کو فروغ دینے کے لیے ایک مرکزی ڈیجیٹل پلیٹ فارم شروع کرنے پر غور کرنا چاہیے۔ اس پلیٹ فارم کو بجٹ کی پیچیدہ تفصیلات اس انداز میں پیش کرنے کے لیے ڈیزائن کیا جانا چاہیے جو شہریوں کو آسانی سے سمجھ آسکے ۔ حکومتوں کو بجٹ کی تشکیل کے اہم مرحلے کے دوران ملک گیر عوامی مشاورت، بشمول ٹاؤن ہال میٹنگز اور ورکشاپس کے آغاز کو ترجیح دینی چاہیے۔ رپورٹ میں خواتین، اقلیتوں، بچوں اور معذور افرادکے لیے الگ الگ بجٹ اسٹیٹمنٹ تیار کرنے اور جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے، جس میں ہر گروپ کی منفرد ضروریات اور چیلنجوں کے مطابق مخصوص مختص اور حکمت عملیوں کا خاکہ پیش کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں پاکستان میں سیٹیزن بجٹ پیش کرنے کے عمل کو مخصوص قانون سازی یا ضوابط کے ذریعے باقاعدہ بنائے جانے پر زور دیا گیا ہے۔ سی پی ڈی آئی کی رپورٹ کے مطابق، حکومتوں کو بجٹ کا ڈیٹا ایکسل اور سی ایس وی جیسے وسیع پیمانے پر مشین سے پڑھنے کے قابل فارمیٹس میں دستیاب کرانا چاہیے۔اس کے علاوہ بجٹ سازی کے عمل میں شہریوں کی شرکت کو قانونی تحفظ دیا جائے اور حکومتی اداروں کو بجٹ سازی کے عمل کے مختلف مراحل کے دوران شہریوں سے مشاورت کا پابند بنایا جائے، خاص طور پر بجٹ کی تشکیل اور اس پر عمل درآمد کے دوران ارکان پارلیمنٹ کے کردار کو بڑھایا جائے سی این بی اے کی رکن تنظیم (سٹیزنز نیٹ ورک فار بجٹ اکاونٹیبلٹی) کے زیر اہتمام "شفاف بجٹ سازی پر اسٹیک ہولڈرز ڈائیلاگ” کے دوران منتخب نمائندوں، مقامی حکومتوں کے نمائندوں، سول سوسائٹی کے نمائندوں کے ساتھ وای ایس ڈی او کے چییرمین اسفندیار خان نے گفتگو کرتے ہویے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی سے، سی پی ڈی آئی پاکستان میں بجٹ سازی کے عمل کو ضلع سے وفاقی سطح تک بہتر بنانے کے لیے کام کر رہا ہے تاکہ اس میں شفافیت کو فروغ دیا جا سکے۔اس کے نتیجے میں "پاکستان میں بجٹ کی شفافیت کی صورتحال 2023” پر مبنی چوتھی رپورٹ جاری کی گئی ہے۔ یہ رپورٹ نہ صرف بجٹ کی شفافیت کا جائزہ لیتی ہے بلکہ پاکستان میں بلکہ بجٹ کی معلومات کے حصول کے لیے پاکستان میں اطلاعات تک رسائی کے قوانین کی مؤثریت کا اندازہ لگانے میں بھی مدد کرتی ہے۔یہ رپورٹ تجویز کرتی ہے کہ بجٹ کو تیز رفتاری سے آگے بڑھانے کی بجائے اسے وفاقی اور صوبائی اسمبلیوں کی فنانس کمیٹیوں کو پہلے ہی بھیج دیا جائے۔ سی پی ڈی آئی کی رپورٹ میں تمام پلاننگ کمیشن فارمز (PC-I سے PC-V) ) تمام فارموں کو تمام وفاقی اور صوبائی سطحوں پر عوام کے لیے دستیاب کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ رپورٹ کے مطابق بجٹ سازی میں شہریوں کی شرکت، مقننہ کی نگرانی، پارلیمنٹ میں بجٹ پر بحث کا دورانیہ اور منصفانہ بجٹ سازی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے اس آگاہی سیمنار میں کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی جس دوران شرکا نے اس حوالے سے محتلف سوالات بھی پوچھے جن کا چییرمین اسفندیار خان نے جوابات بھی دیے۔

About Dr.Ghulam Murtaza

یہ بھی پڑھیں

پاکستان چیمپئنز لیگ 2024 :لاہور سکندرز اور کوئٹہ اسٹرائیکرز کافاتحانہ آغاز

فیصل آباد، (ویب اسپورٹس) محمد احسن کی ناقابل شکست سنچری کی بدولت لاہور سکندرز نے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے